سرفراز پانچ صفر کا حساب چُکا سکیں گے؟

سرفراز پانچ صفر کا حساب چُکا سکیں گے؟

November 07, 2018 - 00:34
Posted in:

فی الوقت مختصر فارمیٹ کی کرکٹ اس قدر بہتات سے کھیلی جا رہی ہے کہ چھکوں چوکوں کے غلغلے میں یہ جاننا نہایت دشوار ہوتا ہے کہ کون کس سے اور کیوں کھیل رہا ہے۔مثلاً ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت بھارت کے دورے پر ہے۔ مگر سوائے میزبان اور مہمان کے دنیائے کرکٹ میں کسی کو غرض نہیں ہے کہ دونوں ممالک آپس میں کیوں کھیل رہے ہیں۔ کوئی خاص سیاق و سباق یا تناظر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ جو اس دورے کی اہمیت کو واضح کر سکے۔یہ بھی پڑھیے:ولیمسن یہ میچ جیت کیوں نہ پائے؟’اور سرفراز مسکرا رہے تھے‘مگر کل سے جو ون ڈے سیریز پاکستان اور نیوزی لینڈ کے بیچ چھڑنے والی ہے، اس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو صرف تناظر ہی نہیں، بھرپور سیاق و سباق بھی میسر ہے۔دو سال پہلے نومبر ہی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے دورے کا آغاز کیا تھا۔ یہ مکمل دورہ نہیں تھا۔ آسٹریلیا جاتے ہوئے رستے میں ہی پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کے لیے پڑاؤ ڈالا تھا اور خدشات کے عین مطابق دونوں ٹیسٹ میچ ہار گیا۔اس دورے کا باقی ماندہ حصہ سالِ رواں کے آغاز میں ہوا۔ سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے پانچ ون ڈے میچ اور تین ٹی ٹونٹی کے لیے نیوزی لینڈ کا رخ کیا۔ دورے کے پہلے حصے اور دوسرے حصے میں فرق یہ تھا کہ ٹیسٹ میچ کے لیے روانہ ہونے سے قبل مصباح کی ٹیم ویسٹ انڈیز سے آخری میچ ہار کر روانہ ہوئی تھی۔مگر سرفراز احمد کی قیادت میں جب یہ ٹیم نیوزی لینڈ گئی تو اس کی پشت پہ بہترین ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ریکارڈ کا کریڈٹ تھا۔ چیمپیئنز ٹرافی کی فتح کے بعد سری لنکا کے خلاف دونوں فارمیٹ میں کلین سویپ کیا جا چکا تھا اور ورلڈ الیون کے خلاف سیریز بھی پاکستان کے نام رہی تھی۔مگر توقعات کے برعکس پاکستان کی پریشانی صرف سیریز ہارنے پہ ہی موقوف نہ رہی، پاکستان چیمپئینز ٹرافی کا فاتح ہونے کے باوجود کوئی ایک ون ڈے بھی جیت نہ پایا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ون ڈے میں وائٹ واش کا حساب پاکستان نے ٹی ٹونٹی سیریز جیت کر کسی حد تک چُکا دیا۔اتوار کو جب مسلسل تیسرے ٹی ٹونٹی میں ولیمسن کی ٹیم کو مات ہوئی تو سرفراز کی خوشی دیدنی تھی۔ بہر طور جو ہزیمت پاکستان کو کیویز کی میزبانی میں اٹھانا پڑی تھی، اس کا ذائقہ ذرا سا ولیمسن کو بھی چکھنا تو پڑا۔اس تناظر میں یہ سیریز اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے کہ ٹی ٹونٹی سیریز میں ایسی خفت اٹھانے کے بعد اب ون ڈے سیریز میں ولیمسن کس سوچ کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ٹی ٹونٹی سیریز میں تو احتیاط ہی کیویز کے دامن گیر رہی مگر ون ڈے میں ظاہر ہے نیوزی لینڈ کی رینکنگ بھی پاکستان سے بہتر ہے اور ٹیم بھی۔لیکن دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ کورے اینڈرسن کی انجری کے بعد جس طرح کے شبہات ٹوڈ ایسٹل کی فٹنس پہ اٹھ رہے ہیں، کیا ولیمسن کا وننگ کمبینیشن ان انجریز سے متاثر ہو گا؟دوسرا اہم پہلو یہاں دیکھنے کو یہ ہو گا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہر ٹیم پہ ورلڈ کپ کی تیاری کا بھوت سوار ہے، ایسے میں پاکستان کے ہوم سیزن کی یہ پہلی اور اس سال کی تیسری ون ڈے سیریز ہے۔ان تین میں سے بھی ایک سیریز پاکستان نے زمبابوے سے جیتی جو کہ ظاہر ہے پاکستان کے مقابلے میں بہت کمزور ٹیم تھی۔ اور دوسری وہی جو سال کے آغاز میں ولیمسن کی ٹیم کے خلاف پاکستان وائٹ واش ہوا۔ اب سال کی اس آخری ون ڈے سیریز میں سیاق و سباق بھی بہت ہے اور سرفراز کے پاس ثابت کرنے کو بھی کافی کچھ ہے۔ ایک تو ورلڈ کپ کی تیاریوں کی پرکھ کرنا ہے۔ پھر ولیمسن سے جنوری والے وائٹ واش کا حساب بھی چکتا کرنا ہے۔ سو، کل سے ہم نہ صرف یہ جان پائیں گے کہ کیا سرفراز کی ون ڈے ٹیم اپنی رینکنگ بہتر بنانے کی پوزیشن میں ہے بلکہ یہ بھی کہ پاکستان کیویز سے پانچ صفر کا حساب چکا سکتے ہیں یا نہیں؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}