سانحۂ ماڈل ٹاؤن: انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے

سانحۂ ماڈل ٹاؤن: انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے

September 21, 2017 - 19:09
Posted in:

لاہور ہائی کورٹ نے حکومتِ پنجاب کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے منگل کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔طاہرالقادری کی واپسی، ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کا مطالبہماڈل ٹاؤن تصادم:گلو بٹ پر فرد جرم عائدماڈل ٹاؤن سانحہ: 'شہباز شریف بےگناہ'، عوامی تحریک کا احتجاج ہائی کورٹ کے جج مظاہر علی اکبر نقوی نے جمعرات کو مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ سانحے پر جسٹس علی باقر نجفی کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جائے۔یاد رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز سے بات کرتے ہوئے سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے وکیل اشتیاق چودھری نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دی جانے والی درخواست میں سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے عدالت سے استدعا کی تھا کہ انھیں بتایا جائے کہ ان کے پیاروں کی موت کے ذمہ داران کون ہیں۔نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اشتیاق چودھری کا کہنا تھا کہ متاثرین کی استدعا کو مانتے ہوئے عدالت نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سنہ 2013 کے آرلٹیکل 19 اے یعنی 'جاننے کے حق' کے تحت فیصلہ دیا۔اشتیاق چودھری کے مطابق عدالت کے اس فیصلے پر پنجاب حکومت انٹرا کورٹ اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے تاہم اسے یہ رپورٹ منظرِ عام پر لانی پڑے گی۔'جب تک کوئی عدالت ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر حکمِ امتناع جاری نہیں کرتی، حکومتِ پنجاب کو یہ رپورٹ منظرِ عام پر لانی پڑے گی ورنہ وہ توہینِ عدالت کی مرتکب ٹھہرے گی جس پر اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}