زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

January 12, 2018 - 17:22
Posted in:

سوشلستان والوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، عمران خان کی تیسری شادی پر توجہ رکھیں یا قصور میں ہونے والے ہولناک واقعے کی مذمت کریں۔ سوشلستان میں غم و غصے کا یہ عالم ہے کہ لاکھوں ٹویٹس اب تک مذمت اور قاتل کی پھانسی کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر اسلام آباد اور کراچی کے پریس کلب کے باہر مظاہرے میں چند درجن سے زیادہ لوگ اتنی ہی موم بتیوں کے ساتھ بمشکل شامل ہوئے۔ اسلام آباد پریس کلب کے باہر تو کوئٹہ کی علمدار روڈ پر 2013 میں ہونے والے دھماکے میں جان سے جانے والوں کی یاد میں شمع جلانے والوں میں ایک انسانی حقوق کے کارکن نے زینب کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا کہ ہم کیوں کوئٹہ کے ہلاک شدگان کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔ مگر ہم بات کریں گے کہ کیسے اس قتل کو سیاسی ’پوائنٹ سکورنگ‘ اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مزید پڑھیےغم و غصے کی لہر،'زینب کے لیے انصاف چاہیے‘چھ ماہ میں ملک میں’بچوں کے ریپ اور قتل کے 768 واقعات‘قصور میں زینب کے بہیمانہ قتل کے واقعے کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں کا رُخ قصور میں بچی کے گھر کی جانب ہوا۔صحافی اور اینکر طلعت حسین نے لکھا ’مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ ایک ریپ اور قتل ہونے والے بچی کی تصاویر اور نام ذاتی پی آر کے ایک لامتناہی سلسلے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قصور کے ریپ اور قتل کے بہیمانہ واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا اتنا ہی ظالمانہ ہے۔ آپ دماغی طور پر بہت ہی غیر متوازن ہوں گے اگر ایسا کریں۔‘سرفراز احمد رانا نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو ’رانگ نمبر‘ قرار دیا کہ ’ان تمام رانگ نمبروں سے ہوشیار رہیں کہ جو خود غرضی سے معصوم زینب کے خونِ ناحق پر اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے سیاست کھیل رہے ہیں۔‘عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے لکھا کہ ’زینب (اور دیگر بے گناہوں) کے لیے انصاف کے مطالبے پر سب متفق ہیں لیکن دھرنا بازوں سے ہوشیار رہیں جو اس معصوم بچی کے خون کو تختِ لاہور حاصل کرنے کی لڑائی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، ایسا کرنا معصوم زینب کو دوسری بار قتل کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}