زاہدحامد کو برطرف اور اس کی مذہبی حیثیت کی وضاحت کی جائے

زاہدحامد کو برطرف اور اس کی مذہبی حیثیت کی وضاحت کی جائے

October 05, 2017 - 19:58
Posted in:

ٹنڈوآدم(پ ر)زاہدحامد کو برطرف اور اس کی مذہبی حیثیت کی وضاحت کی جائے،شہبازکا مؤقف غیرتمندانہ ہے،تمام ذمے داران کو صرف برطرف ہی نہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کے جرم میں مقدمات درج کیے جائیں ،جب تک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو جاتے احتجاج جاری رکھاجائے گا،اسمبلی کا اجلاس معاملے کو ٹھنڈاکرنے کی سازش بھی ہو سکتی ،تنظیم تحفظ ناموس رسالت پاکستان کے مرکزی صدر علامہ احمد میاں حمادی ،جنرل سیکرٹری مفتی محمد طاہر مکی ،صاحبزادہ محفوظ الرحمن شمس،قاری محمد عارف ،حافظ ابولحسینی اورحافظ عبدالرحمن الحذیفی ودیگر رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے ترمیمی بل واپس لینے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیمی بل کو غیرت مند مسلمان آگے بڑھنے بھی نہیں دیتے لیکن اب سوال یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے اس بل کے ذریعے مذہبی جذبات مجروح کیے کس نے اور کس کے اشارے پر یہ اتنابڑا اور خطرناک اقدام اٹھایا گیا؟رہنماؤں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ اور احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا اب ہمارا مطالبہ ہے کہ زاہد حامد کو برطرف بھی کیا جائے اور وہ اپنی مذہبی حیثیت کی فوری طور پر وضاحت بھی کرے۔

google_ad_client = "ca-pub-6828776300899524";
google_ad_slot = "0592552376";
google_ad_width = 336;
google_ad_height = 280;

مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ شہباز شریف کاختم نبوت کے معاملے پر غفلت کے ذمے داروں کو نکالے جانے کا مؤقف غیرتمندانہ ہے، ہم اس کی دینی غیرت کو سلام پیش کرتے ہیں۔رہنماؤں نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ اس حساس مسئلے پر حکومت کی جانب سے دنیابھر میں افراتفری پھیلائے جانے پر سوموٹو اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیر قانون اور اس واقعے میں ملوث تمام وزرا و مشیران کے خلاف ہمارے مذہبی جذبات مجروح کیے جانے کے جرم میں مقدمات درج کیے جائیں اور تاحیات اس قسم کے نااہل وزرا اور مشیران کو ’’نااہل‘‘قراردینے کے فوری طور پر احکامات جاری کرے۔دریں اثنا مذہبی رہنماؤں نے واضح طور پر کہا ہے کہ آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس اور اس میں صرف بل پاس کیے جانے کی سازشوں پر ہم کسی صورت احتجاج ختم نہیں کریں گے اور نہ ہی مؤقف میں تبدیلی لائیں گے اس لیے کہ یہ حکومت کی معاملے کو دبانے کی سازش بھی ہو سکتی ہے ۔جب تک ترمیم شدہ بل منظور ہوکر اس پر عملدرآمد شرع نہیں ہو جاتا مسلمان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے ۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}