دولت اسلامیہ 5600 جنگجو: گھروں کو لوٹ گئے

دولت اسلامیہ 5600 جنگجو: گھروں کو لوٹ گئے

October 24, 2017 - 21:02
Posted in:

ایک نئی رپورٹ کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کی شام اور عراق کے علاقوں سے پسپائی کے بعد ان کے کم از کم 5600 حامی اپنے ملکوں کو واپس لوٹے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک سوفان سینٹر کا کہنا ہے گذشتہ دو برسوں میں 33 ریاستوں نے ایسے افراد کی واپسی کو رپورٹ کیا ہے۔ واپس آنے والے ان افراد میں ایک اندازے کے مطابق برطانیہ سے جانے والے 850 افراد میں سے نصف شامل ہیں۔ یہ بھی پڑھیے'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘دولت اسلامیہ سے بچنے والی یزیدی خواتین کی ’رسمِ تطہیر‘ ایف بی آئی کی مترجم کی شدت پسند سے شادیرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واپس آنے والے ان افرد میں زیادہ تر جیل میں ہیں یا منظر عام سے اوجھل ہیں اور یہ آنے والے کئی برسوں تک ایک سکیورٹی چیلنج رہیں گے۔ دولت اسلامیہ کو اس خطے کے بیشر حصے سے اب نکال دیا گیا ہے جہاں پر اس نے سنہ 2014 میں 'خلافت' کا اعلان کر کے دنیا بھر سے کئی افراد کو اپنی طرف مائل کیا تھا۔ گذشتہ ہفتے امریکہ کے حمایت یافتہ شامی کردوں اور عرب جنگجؤوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے دولت اسلامیہ کو رقہ سے نکال دیا ہے جس کو تنظیم اپنا دارالخلافہ کہتی تھی۔ سوفان سینٹر کے مطابق 2015 کے آخر میں دولت اسلامیہ کو بعض علاقوں میں ہونے والی شکست اور مختلف ممالک کی جانب سے مؤثر اقدامات کی وجہ سے ایک طرح سے غیر ملکی جنگجوؤں کی شام اور عراق آمد رک گئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے 110 ممالک سے 40 ہزار سے زیادہ غیر ملکی افراد شام اور عراق جا کر جہادی گروپوں میں شامل ہوئے تھے۔ دولت اسلامیہ کے انتظامی مراکز جیسا کے رقہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ان میں سے 19 ہزار افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ تاہم اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ان افراد کے ساتھ ہوا کیا۔ ملک
جانے والوں کی تعداد
لوٹنے والوں کی تعداد
روس
3417
400
سعودی عرب
3244
760
تیونس
2926
800
فرانس
1910
271
33 ممالک کی جانب سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر سوفان سینٹر کا کہنا ہے کہ کم از کم 5600 غیر ملکی جنگجو اپنے ملکوں کو واپس لوٹے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے 'اگرچہ اس بارے میں اتفاق نہیں پایا جاتا کہ اپنے آبائی ممالک یا جن ممالک سے یہ افراد گزریں گے یہ ان کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ ناگزیر ہے کہ ان میں سے بعض کا جہاد کی 'پر تشدد' قسم پر یقین رہے گا'۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اُس مقامی 'خلافت' کے سکڑنے یا اسے پنپنے کی جگہ نہ ملنے کی صورت میں یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ 'اس برینڈ کو زندہ' رکھنے کے لیے دولت اسلامیہ کی لیڈرشپ اپنے بیرون ملک حامیوں یا ان واپس لوٹنے والوں پر انحصار کرے گی۔ یہ بھی پڑھیےعراق میں یزیدیوں کا مستقبلدولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا مسئلہ لوٹنے والی خواتین اور بچے ہیں اور مختلف ممالک کو ان کو دوبارہ معاشرے میں بحال کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سوفان سینٹر کے مطابق تیونس کی حکومت نے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد 2015 میں 6000 بتائی تھی جو کہ اب نئے اندازے کے مطابق 2920 کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے مطابق اب روس وہ ملک بن گیا ہے جہاں سے سب سے زیادہ غیر ملکی جنگجو گئے تھے۔ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ نے بی بی سی کو گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ دولست اسلامیہ میں شامل ہونے والے تقریباً 800 برطانوی شہریوں میں سے اندازوں کے برخلاف بہت کم تعداد حال ہی میں واپس لوٹی ہے اور کم از کم 130 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق وہ افراد جو ابھی تک عراق اور شام میں موجود ہیں وہ اب شاید واپس آنے کی کوشش نہ ہی کریں کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں واپسی پر گرفتار کر لیا جائے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}