داعش کے کچھ عناصر سے اب بھی عراق کو خطرہ لاحق ہے: ٹلرسن

داعش کے کچھ عناصر سے اب بھی عراق کو خطرہ لاحق ہے: ٹلرسن

February 14, 2018 - 02:04
Posted in:

واشنگٹن — 
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ ’’اب بھی داعش کے کچھ عناصر موجود ہیں، جو عراق کے لیے خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں‘‘۔
اس لیے، اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’امریکہ تب تک عراق میں رہے گا، جب تک اِن خطرات سے نمٹ نہیں لیا جاتا، اور ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہوجاتا کہ صورت حال تسلی بخش ہے‘‘۔
ریکس ٹلرسن نے یہ بات ’الحرہ ٹیلی ویژن‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔اُن سے پوچھا گیا تھا آیا عراق میں امریکی موجودگی کب تک رہے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کا مطلب امریکی حکومت یا فوجی موجودگی سے ہے، تو یہ معاملہ حکومت عراق اور وزیر اعظم عبادی سے اٹھایا جانا باقی ہے‘‘۔
تاہم، اُنھوں نے یاد دلایا کہ عراق میں انتخابات کا مرحلہ نزدیک ہے۔ ’’ہم ابھی عراق میں ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ داعش پھر سے سر نہ اٹھائے‘‘۔
بقول اُن کے، ’’ایسا ہے کہ ہم نے داعش کو اس طرح شکست دی ہے کہ اُن کے زیر قبضہ تمام علاقہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔ لیکن، اب بھی چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے‘‘۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ عراق و شام میں دولت اسلامیہ کو شکست دی جا چکی ہے؛ اور اس دہشت گرد گروہ کے زیر قبضہ 100 فی صد علاقہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔
ٹلرسن نے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی اتحاد نے داعش کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔
اس ضمن میں، اُنھوں نے بتایا کہ نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، جس میں راہنما اصول طے کیے گئے ہیں، جس پر سب ارکان کو عمل پیرا ہونا ہوگا؛ اس میں اطلاعات کا تبادلہ، اطلاعات اکٹھے کرنا اور ’انٹرپول‘ ڈیٹابیس استعمال کرنا شامل ہے؛ ’’جس کا مقصد یہ ہے کہ داعش کو دیرپہ شکست دی جاسکے‘‘۔

VOA بشکریہa {display:none;}