خیبر ٹیچنگ ہسپتال: نرس کو ہراساں کرنے پر ڈاکٹر برخاست

خیبر ٹیچنگ ہسپتال: نرس کو ہراساں کرنے پر ڈاکٹر برخاست

November 24, 2017 - 01:19
Posted in:

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نرس کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ایک ڈاکٹر کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے ۔صوبے میں اس طرح کے واقعات پر نوکری سے برخاست کرنے کا یہ منفرد واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔کیا فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟ شرمین چنائے: الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھانامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ کچھ عرصہ پہلے ہوا تھا جس پر خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے انکوائری کا حکم دیا تھا۔جمعرات کو ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر سعود نے صحافیوں کو بتایا کہ انکوائری کمیٹی نے ٹریننگ رجسٹرار کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا ہے جس پر انھیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ میڈیکل آئی سی یو میں پیش آیا جہاں ایک فرسٹ ایئر کی نرس کو متعلقہ ڈاکٹر نے اپنا فون نمبر دینا چاہا جس پر نرس نے برا منایا اور اپنے افسران کو رپورٹ کی۔اس واقعے پر ہسپتال انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی مقرر کی اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ ڈاکٹر کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا متعلقہ ڈاکٹر نے اپنی حد سے تجاوز کیا تھا اور جس سطح پر جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اس سطح کی سزا سنا دی گئی۔اس انکوائری کمیٹی میں نرسنگ اور ڈاکٹروں کی نمائندگی کے ساتھ ہسپتال انتظامیہ کے نمائندے شامل تھے۔ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ ڈاکٹر نے غفلت کا مظاہرہ کیا جو ان کے شعبے کے شایان شان نہیں تھا اس لیے متعلقہ ڈاکٹر کو نوکری سے برخاست کیا گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو کام کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن اب کچھ عرصے سے یہ واقعات رپورٹ ہونا شروع ہوئے ہیں جس پر بعض محکموں میں ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ایک نرس کی ہلاکت کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے جس پر انکوائری کی جا رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}