خون کھائیں گے؟ ہمارے اندر خون کی چاہ کہاں سے آئی

خون کھائیں گے؟ ہمارے اندر خون کی چاہ کہاں سے آئی

October 30, 2018 - 19:06
Posted in:

شیف ٹِم ہیورڈ نے بی بی سی کے فُوڈ پروگرام کے لیے ایک بڑا چیلنج قبول کیا ہے۔ وہ خون کو ایک بار پھر آپ کے کھانے کا حصہ بنا رہے ہیں۔ 'بلیک پڈنگ' سے 'بلڈ براؤنی' تک یہ ہیں پانچ خونی پیشکشیں۔ بلیک پُڈنگ:

جس نے 'انگلش بریکفاسٹ' کھایا ہے وہ بلیک پُڈنگ سے ضرور واقف ہو گا۔ روایتی طور پر یہ تازہ خون سے بنتی تھی لیکن آجکل اس میں پاؤڈر کی صورت میں درآمد کیا گیا خون استعمال ہوتا ہے۔ بعض بلیک پُڈنگز میں تو پچانوے فیصد خون ہی ہوتا ہے۔دنیا کے تقریباً ہر کلچر میں خون والے 'ساسج' بنتے رہے ہیں مثلاً کاتالونیا میں نیگرا، آئرلینڈ میں درِسِن، فرانس میں بو نوا، ہسپانیہ میں مورسیلا، وسطی امریکہ میں مورونگا اور جرمنی میں بلتورست وغیرہ۔ تائیوان کی بلڈ پُڈنگ تو بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ یہ خنزیر کے خون میں ابلے ہوئے چاولوں سے بنتی ہے جس پر مونگ پھلی کا پاؤڈر لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیےکیا اپنا پیشاب پینا صحت کے لیے مفید ہے؟کیا آپ ان کراہت انگیز کھانوں میں سے کوئی چکھنا چاہیں گے؟صرف ایک قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟

لیکن جو ساسج نہیں کھانا چاہتے تو بھی بہت سی چیزیں ہیں ان کے لیے مثلاً تھائی لینڈ کا 'نوڈل سُوپ' نام ٹوک جس میں خنزیر یا گائے کا خون شامل کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں تمل ناڈو میں دنبے کے خون کا 'سٹر فرائی' ملتا ہے۔ ویتنام میں تیز مرچ کا شوربا ملتا ہے جس میں جما ہوا گاڑھا خون ذائقے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ سانپ کا خون ملا کر چاول کی ایک خصوصی وائن پی جاتی ہے۔ خون بہنے دیں:

دنیا کے بہت سے قبائل میں جانور کو ہلاک کیے بغیر اس کا خون پینے کی روایت ہے۔ جانور کا خون دوبارہ بن جاتا ہے اور دور دور تک سفر کرنے والے قبائلیوں کی توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ کینیا کے مسائی قبائل اور جنوب مغربی ایتھوپیا کے سوری قبائل میں یہ روایت عام ہے۔ بلڈ بیکنگ:

بیکر بننے کے خواہشمند لوگوں کے لیے اطلاع ہے کہ انڈے کا ایک نعم البدل خون بھی ہو سکتا ہے جس کی پروٹین کی مقدار انڈے جیسی ہوتی ہے۔ اسی چیز نے بہت سے بیکرز کو خون سے بیکنگ کا تجربہ کرنے پر مجبور کیا۔ کینیڈا کی بیکر جینیفر مکلیگن کیک، براؤنی، آئس کریم وغیرہ میں خون شامل کر چکی ہیں۔ بالٹک کی ریاستوں اور روس کے کچھ حصوں میں چاکلیٹ میں بھی خون شامل کیا جاتا ہے۔ ویمپائر کی کہانی:

خون میں انسان کی دلچسپی سے صرف اس کا پیٹ ہی نہیں بھرا بلکہ اس سے اس نے بہت سی کہانیاں بھی بنائی ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے دوران مشرقی یورپ میں انسانوں کا خون چوسنے والی ویمپائر کا چرچا عام تھا۔ اس تشدد بھرے دور میں ویمپائر کی کہانیاں آگ کی طرح پھیلیں اور ان کے دنیا بھر میں مقبول ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ڈریکولا:

'ویمپائرز' کے مصنف سر کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ ویمپائر پر بننے والی ڈراؤنی فلمیں درست تصویر پیش نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی سے خون چوسنے کے لیے چوہوں کی طرح کا چبانے کا عمل اور نوکیلے دانت ضروری ہیں۔ ڈریکولا میں سر کرسٹوفر لی کے کردار کو اوپر کی طرف نوکیلے دانت دیے گئے ہیں جو کہ حقیقت میں خون چوسنے کے عمل میں پھنس جائیں گے۔ لیکن آپ کو اس سب سے منع ہی کیا جائے گا اور اگر کسی کو شوق ہے تو وہ بلیک پُڈنگ پر گزارا کرے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}