خلا کی سیر کرنی ہے تو ٹکٹ خریدنے کی تیاری کریں

خلا کی سیر کرنی ہے تو ٹکٹ خریدنے کی تیاری کریں

October 09, 2018 - 17:31
Posted in:

سر رچرڈ برینسن نے کہا ہے کہ اُن کی کمپنی ورجن گیلیکٹک خلا میں اپنی پہلی پرواز سے اب صرف چند ہفتے دور ہے۔ انھوں نے نیوز ویب سائٹ سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم مہینوں کے بجائے ہفتوں کے اندر خلا میں ہوں گے۔ اُس کے بعد برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں مجھ سمیت ہم خلا میں ہوں گے۔'ورجن گروپ کے مالک کا کہنا ہے کہ اِس کے بعد جلد ہی عام مسافروں کو خلا کی سیر کے لیے لے جایا جا سکے گا۔ یہ بھی پڑھیےخلا میں لگژری ہوٹل کے قیام کا اعلانورجن گیلیکٹک کے خلائی راکٹ کی صلاحیت میں اضافہورجن گلیکٹک حادثہ، تحقیقات میں ایک برس لگ سکتا ہےسر رچرڈ کی کمپنی ورجن گیلیکٹک کا مقابلہ ایلن مسک کی کمپنی سپیس ایکس اور ایمیزون کے ساتھ ہے۔ یہ کمپنیاں پیسے لے کر عام لوگوں کو خلا کی سیر کرانے کی تیاری کر رہی ہیں۔

سر رچرڈ برینسن نے 2004 میں ورجن گیلیکٹک نامی کمپنی قائم کی تھی جو کمرشل بنیادوں پر خلا میں پرواز کروائے گی۔اِس سے پہلے کمپنی نے 2009 تک پہلی مرتبہ سیاحوں کو ایسی پروازوں میں لے جانے کی پیشکش کی تھی جو زمین کے مدار میں چکر لگائیں گی۔ لیکن اس میں تاخیر ہوئی اور 2014 میں ایک سپیس کرافٹ کے جان لیوا حادثے کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔اِس سال کے شروع میں ورجن گیلیکٹک نے اپنے نئے خلائی جہاز کی آواز کی رفتار سے تیز تجرباتی پرواز کامیابی سے مکمل کی۔سڑسٹھ برس کے رچرڈ برینسن ایسی ہی ایک تجرباتی پرواز میں خود بھی جانا چاہتے ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں وہ بتا چکے ہیں کہ وہ خلا نوردی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خلا میں جانے کی کمرشل پروازوں کی بہت طلب ہے۔'یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم طلب کے حساب سے کتنے خلائی جہاز بناتے ہیں۔' ان کا مدمقابل سپیس ایکس ایک ایسے خلائی جہاز کو منظرِ عام پر لا چکا ہے جو چاند کے گرد چکر لگائے گا۔ سر رچرڈ کا یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے۔سپیس ایکس کا یہ منصوبہ 2023 کے لیے ہے جو 1972 کے بعد چاند کے گرد پہلا انسانی سفر ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}