خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرا کر تباہ

خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرا کر تباہ

September 15, 2017 - 16:25
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-with-caption"div class="player-with-placeholder"
img class="media-placeholder player-with-placeholder__image lead-video-placeholder" src="https://ichef.bbci.co.uk/images/ic/720x405/p05g5l4w.jpg"div class="player-with-placeholder__caption"اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں/div
div class="player-with-placeholder"
div class="media-player-wrapper"
figure class="js-media-player-unprocessed media-player" data-playable='{"settings":{"counterName":"urdu.science.story.41267870.page","edition":"US","pageType":"eav2","uniqueID":"41267870","ui":{"locale":{"lang":"ur"}},"externalEmbedUrl":"http:\/\/www.bbc.com\/urdu\/science-41267870\/embed","insideIframe":false,"statsObject":{"clipPID":"p05g5kfg"},"playlistObject":{"title":"\u0633\u06cc\u0627\u0631\u06c1 \u0632\u062d\u0644 \u06a9\u06d2 \u06af\u0631\u062f 13 \u0628\u0631\u0633 \u0633\u06d2 \u0645\u062d\u0648\u0650 \u067e\u0631\u0648\u0627\u0632 \u062e\u0644\u0627\u0626\u06cc \u062c\u06c1\u0627\u0632 \u06a9\u06cc\u0633\u06cc\u0646\u06cc \u062c\u0645\u0639\u06d2 \u06a9\u0648 \u0627\u0633 \u0633\u06cc\u0627\u0631\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0645\u062f\u0627\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u062f\u0627\u062e\u0644 \u06c1\u0648 \u06a9\u0631 \u062c\u0644 \u06a9\u0631 \u062a\u0628\u0627\u06c1 \u06c1\u0648 \u062c\u0627\u0626\u06d2 \u06af\u0627","holdingImageURL":"https:\/\/ichef.bbci.co.uk\/images\/ic\/$recipe\/p05g5l4w.jpg","guidance":"","embedRights":"allowed","summary":"\u0633\u06cc\u0627\u0631\u06c1 \u0632\u062d\u0644 \u06a9\u06d2 \u06af\u0631\u062f 13 \u0628\u0631\u0633 \u0633\u06d2 \u0645\u062d\u0648\u0650 \u067e\u0631\u0648\u0627\u0632 \u062e\u0644\u0627\u0626\u06cc \u062c\u06c1\u0627\u0632 \u06a9\u06cc\u0633\u06cc\u0646\u06cc \u062c\u0645\u0639\u06d2 \u06a9\u0648 \u0627\u0633 \u0633\u06cc\u0627\u0631\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0645\u062f\u0627\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u062f\u0627\u062e\u0644 \u06c1\u0648 \u06a9\u0631 \u062c\u0644 \u06a9\u0631 \u062a\u0628\u0627\u06c1 \u06c1\u0648 \u062c\u0627\u0626\u06d2 \u06af\u0627","liveRewind":false,"simulcast":false,"items":[{"vpid":"p05g5kfm","live":false,"duration":89,"kind":"programme"}]}},"otherSettings":{"advertisingAllowed":true,"continuousPlayCfg":{"enabled":false},"isAutoplayOnForAudience":false}}'/figure/div
/div
/div figcaption class="media-with-caption__caption"سیارہ زحل کے گرد 13 برس سے محوِ پرواز خلائی جہاز کیسینی جمعے کو اس سیارے کے مدار میں داخل ہو کر جل کر تباہ ہو جائے گا/figcaption/figurep class="story-body__introduction"خلائی جہاز کیسینی اگلے چند گھنٹوں کے اندر سیارہ زحل سے ٹکرا کر تباہ ہو جائے گا۔ /ppچار ارب ڈالر مالیت کا یہ مشن اپنے 13 برس پر محیط سفر کا اختتام حلقہ دار سیارے سے ٹکرا کر کرے گا۔ /ppٹکراتے وقت جہاز کی متوقع رفتار ایک لاکھ 20 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گی اور یہ سیارے کی فضا میں داخل ہونے کے ایک منٹ کے اندر اندر پاش پاش ہو جائے گا۔ /ppالبتہ سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ جہاز کے سگنل ختم ہوتے ہوتے زحل کی فضا میں موجود گیسوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل کر پائیں گے۔ /ppتوقع ہے کہ کیسینی جی ایم ٹی کے مطابق 11:55 پر زحل سے ٹکرائے گا۔ /ppاس موقعے پر کیسینی کے مشن سے وابستہ سینکڑوں سائنس دان لاس اینجلس کے قریب واقع پیساڈینا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری پہنچ گئے ہیں۔ /ppامریکی خلائی ادارے ناسا کی سابق سربراہ ایلن سٹوفین نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم نے حیرت انگیز سائنس سرانجام دی ہے۔ ہماری ٹیم بہت زبردست تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم اس موقعے پر خوشی منا سکتے ہیں کیوں کہ ہم نے کیسینی خلائی جہاز سے ہم ممکن سائنس کشید کر لی ہے۔'/ppکیسینی نے زحل کے بارے میں معلومات میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس نے زحل پر عظیم طوفانوں کا مشاہدہ کیا اور اس سیارے کے گرد واقع پیچیدہ حلقوں کے اندر برف کے ذرات کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ /ppاس کے علاوہ کیسینی نے زحل کے چاندوں ٹائٹن اور اینسیلاڈس کا بھی بغور جائزہ لیا۔ ان چاندوں کی سطح کے نیچے مائع پانی موجود ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہاں سادہ زندگی پائے جانے کے امکانات ہیں۔ /ppلاکھوں تصاویر زمین پر بھیجنے کے بعد اب کیسینی کا آخری وقت آ پہنچا ہے۔ /pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

img src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/C1F3/production/_97815694_..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurepاس میں بس چند کلوگرام ایندھن ہی باقی رہ گیا ہے اور ناسا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ ایندھن ختم ہونے کے بعد کیسینی بےقابو ہو کر نظامِ شمسی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرے۔/ppناسا میں کیسینی کے پروجیکٹ مینیجر ارل میز نے کہا: 'یہی بہترین حل ہے۔ ہم کیسینی کو کہیں اور بھیج سکتے تھے، لیکن اس کا کوئی سائنسی فائدہ نہیں تھا۔' /ppاس کے برعکس کیسینی کے 'خودکش' مشن سے منفرد ڈیٹا حاصل ہو گا۔ /ppزحل کے قریب جا کر اس جہاز نے سیارے کے حلقوں کے عمر، زحل کی اندرونی ساخت اور اس کی گیسوں کے بارے میں نئی معلومات اکٹھی کی ہیں۔/ppسیارے کی فضا کے اندر پہنچ کر کیسینی کے آٹھ آلات آن کر دیے جائیں گے جو جلنے تک زمین کی جانب سگنل بھیجتے رہیں گے۔ /ppامکان ہے کہ زمین پر موجود دوربینیں کیسینی کے جلنے کا عمل دیکھ سکیں گی۔ تاہم بدقسمتی سے ہبل خلائی دوربین اس وقت کہیں اور دیکھ رہی ہو گی۔ /pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

div class="js-delayed-image-load" data-alt="کیسینی کی بھیجی گئی تصویر" data-src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/E903/production/_97815695_c7..." data-style="width=100%; max-width=640;" data-/div

/span

/figure/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style