خطرے کے باوجود روہنگیا خاندان کی میانمار واپسی

خطرے کے باوجود روہنگیا خاندان کی میانمار واپسی

April 16, 2018 - 08:43
Posted in:

مقامی افراد کے مطابق وہاں صبح تین بجے آگ لگی۔ہمارے نمائندے آدرش راٹھور نے بتایا کہ 'وہاں 230 سے زیادہ افراد رہتے تھے اور سب کچھ خاک میں مل چکا تھا۔ جھگیوں کا نام و نشان باقی نہیں تھا۔کولر کے بکسے، بالٹیاں، جلے ہوئے برتن، چھوٹے سلینڈر جیسے دھات کی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا۔'انھوں نے بتایا کہ جب اتوار کو ایک بجے وہ وہاں پہنچے تو اس وقت بھی کہیں کہیں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ایک مقامی سماجی رضاکار اویس زین العابدین نے بتایا کہ روہنگیا ڈرے ہوئے ہیں اور وہ کھل کر یہ نہیں بتا پا رہے ہیں کہ آگ باہر سے آکر کسی نے لگائی تھی۔ زین العابدین روہنگیا کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی گزار بھی ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ یہ آگ سازش کا نتیجہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ 'ان روہنگیا پناہ گزینوں کے پاس باقاعدہ اقوام متحدہ کے کارڈ اور طویل مدتی ویزا بھی ہے لیکن سب اس آگ میں جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}