حواء کی بیٹی کی عزت پامال کردی گئی

حواء کی بیٹی کی عزت پامال کردی گئی

January 22, 2018 - 00:37
Posted in:

سونیا منور
اسلام سے قبل جہالت کے دور میں لڑکیوں کو کم تر سمجھا جاتا تھا اور ان کی پیدا ئش کو رحمت کے بجائے زحمت تصور کیا جاتا تھا اور حد یہ تھی کہ انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا پھر جیسے جیسے اسلام پھیلتا گیا جہالت کے اندھیر دور ہو تے گئے اور اسلام میں عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا اس کی روشنی میں لوگوں کو بتا یا گیا کہ عورت کی عزت کی جائے چوں کہ عورت ماں ہے ،بہن ہے،بیٹی ہے اور بیوی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اسلام میں عورت کو جو عزت اور مقام دیا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے کسی صحابی نے نبی کریمؐ سے پوچھا کہ مجھ پر سب سے زیادہ عزت کرنے کا حق کس کا ہے تو نبی کریمؐ نے فرمایا ماں کا اس کے بعد انہوں نے پوچھا پھر کس کا حق ہے؟ تو نبی کریمؐ سے کہا ماں کا۔ یعنی تین مرتبہ ماں کی عزت و احترام کے حق کے بعد باپ کا حق بتایا گیاہے یعنی اسلام میں عورت یا ماں کا رشتہ کتنی اہمیت کا حامل ہے اور موجودہ دور میں بھی عورتوں اور بچیوں کی عزت و احترام ویسے ہی کر نا چاہیے جیسا کہ ہمارے نبی کریمؐ نے فرمایا ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کچھ درند ہ صفت لوگ آج بھی بچیوں اور لڑکیوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں جیسا جہالت کے دور میں کیا جاتا تھا وہ نہ صرف خواتین بلکہ معصوم بچیوں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پنجاب کے شہر قصور میں پیش آیا جس میں 7سالہ معصوم بچی زینب کو5جنوری 2018 کو اغواء کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر کے پھینک دیا گیا۔ پنجاب میں سانحہ قصور کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی یہ معاملہ تھم نہ سکا اور ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں میں اس قسم کے واقعات مسلسل رو نما ہو رہے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے سانحہ قصور کو دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی جس کے لیے جوڈیشنل کمیٹی بھی بنائی گئی جس میںیہ بتایا گیا کہ 2015 میں 300سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اس تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بتایا کہ ایسے واقعات میں آج تک ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ملی جبکہ ملک بھر میں ایسے واقعات ہونا معمول بنتے جا رہے ہیں جن میں اب تک لاتعداد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا جاتا رہا ہے ان ملزمان کو جو ایسے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں انہیں با اثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کی سزا سے بچ جاتے ہیں۔ زینب کے واقع سے قبل بھی گجرات کے علاقے کنجاہ میں درجنوں کمسن طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یہ پنجاب کی گڈ گورننس کا اعجاز ہے کہ قصور واقعے میں ملوث با اثر افراد کا نام سامنے ہی نہیں آ یا اور اب تک مر کزی ملزم بھی گرفتار نہیں ہو سکا اور اگر اس قسم کے واقعات میں کوئی ملزم گرفتار ہو بھی جائے تو اسے کچھ دن بعد بری کر دیا جاتا ہے۔ زینب زیادتی کیس اور قصور میں ہونے والے دیگر واقعات میں زیادتی کا نشانہ بنے والے دیگر بچوں کے والدین چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن کے منتظر ہیں کیوں کہ جب تک پر چیف جسٹس آف پاکستان نوٹس نہیں لیتے تب تک ایسے واقعات کے اصل ملزمان کو سزائیں نہیں دی جا سکتیں اور ایسے واقعات میں نہ کمی ہو سکتی ہے اور نہ ان کو روکا جا سکتا ہے۔ ان مقدمات میں ملوث افراد کو سرے عام پھانسی دی جائے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}