جنسی ہراس: سکول ٹیچر کے خلاف الزام کے بعد کارروائی

جنسی ہراس: سکول ٹیچر کے خلاف الزام کے بعد کارروائی

May 14, 2018 - 16:29
Posted in:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک معروف نجی سکول نے جنسی ہراس کے الزامات سامنے آنے کے بعد اپنے ایک استاد کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سکول کی جانب سے یہ اقدام سوشل میڈیا پر مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی جانب سے شروع کی گئی مہم ’ٹائمز اپ‘ کے بعد لیا گیا ہے۔ اس مہم کا آغاز کراچی سے ہوا تھا اور اس میں شہر کے نامی گرامی سکولوں کی طالبات نے ساتھی طلبا اور مختلف اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراساں کرنے اور غیر مناسب رویے کی اپنی اپنی روداد فیس بک پر شیئر کی تھیں جس کے بعد اسلام آباد کے مختلف سکولوں کی طالبات بھی اس مہم میں شامل ہو گئیں۔یہ بھی پڑھیے’میشا شفیع کا الزام جھوٹا ہے، عدالت لے کر جاؤں گا‘بالی وڈ میں جنسی ہراس حقیقت کیوں ہے؟جنسی ہراس کے الزامات پر آسکر اکیڈمی کا ہنگامی اجلاساسلام آباد کے خلدونیہ ہائی سکول کی کئی طالبات نے ایک مخصوص ٹیچر کے غیر مناسب رویے پر اپنے بیانات دیے جس کے بعد سکول کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جواب دیا گیا۔سوال نے اپنے جواب میں کہا کہ 'انتظامیہ ایک ٹیچر کے نامناسب رویے پر پریشان ہے اور ایسے رویے کسی صورت بھی قابلِ تسلیم نہیں ہیں۔ انتظامیہ نے ٹیچر کے خلاف فوری کارروائی کی ہے۔'سکول انتظامیہ نے کہا کہ 'ان کی اولین ترجیح اُس کے طالب علم ہیں اور سکول انھیں تحفظ دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘سکول کی انتظامیہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'وہ اس شکایت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہوئے سخت اقدامات کریں گے۔'انتظامیہ کا کہنا تھا کہ 'کسی بھی استاد کی جانب سے بچوں کو غیر ضروری طور پر چھونے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔'دوسری جانب جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنے کرنے والے خلدونیہ ہائی سکول کے استاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بچے فیس بک پر کچھ بھی لگا دیتے ہیں لیکن استاد کی حیثیت ماں یا باپ جیسی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 20 برس سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور بچوں کو بیٹا یا بیٹی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ٹیچر نے کہا کہ 'اگر کمرۂ جماعت میں ٹیچر کچھ سمجھا رہا ہے، جسم کے نظام کے بارے میں وہ کچھ سمجھا رہا ہو کہ یہ بازو ہے، ٹانگ ہے یا جسم کا نظام ہے۔ تو وہ اُس کا عملی مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ اگر اسے منفی انداز میں لیا جائے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔'فیس بک پر ٹائمز اپ نامی مہم میں شامل بعض افراد نے اپنی شناخت ظاہر کر کے اور کئی نے گمنام رہ کر اپنے تجربات سے آگاہ کیا ہے۔اس صفحے پر اپنی روداد شیئر کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان بیانات پر درجنوں سے لے کر سینکڑوں افراد کے تبصرے بھی موجود ہیں جو متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔پاکستان میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مہم ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب دنیا میں جنسی ہراساں کرنے کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے می ٹو اور ٹائمز اپ نامی مہم جاری ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}