جنسی وائرس ایچ پی وی کے بارے غلط فہمیاں

جنسی وائرس ایچ پی وی کے بارے غلط فہمیاں

September 13, 2018 - 16:28
Posted in:

ایک تازہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 80 فیصد لوگوں کو متاثر کرنے والے اور جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہونے والے ایچ پی وائرس سے بڑے پیمانے پر شرم اور خجالت کا تصور وابستہ ہے۔ برطانوی حکومت ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) کی ٹیسٹنگ کو سروائیکل کینسر کی سکریننگ کے حصے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔ سروے میں حصہ لینے والی نصف کے قریب خواتین کا خیال تھا کہ اگر وہ ایچ پی وی سے متاثرہ ہیں تو ان کے ساتھی نے ضرور بےوفائی کی ہو گی۔ لیکن یہ وائرس برسوں تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔ کارکنوں کو خدشہ ہے کہ بہت سی عورتیں اس بیماری سے وابستہ کلنک کے باعث سکریننگ میں حصہ نہیں لیتیں۔ جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس سروے میں دو ہزار عورتوں نے حصہ لیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ وائرس سے متاثرہ نصف کے قریب عورتیں شرمندگی محسوس کرتی ہیں اور انھوں نے 'جنسی تعلقات ترک کر دیے ہیں۔'یہ بھی پڑھیں!ایچ آئی وی کے مریض اب نارمل زندگی جی سکتے ہیںایچ آئی وی: ’انقلابی‘ دوا کے تجربات شروع35 فیصد خواتین کو سرے سے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایچ پی وی ہوتا کیا ہے اور 60 فیصد نے کہا کہ اس کا مطلب ہے انھیں کینسر ہو گیا ہے۔ سروے میں حصہ لینے والی 31 سالہ لارا فلیرٹی نے کہا: ’جب مجھے معلوم ہوا کہ میں ایچ پی وی سے متاثرہ ہوں تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب میں نے گوگل کیا تو پتہ چلا کہ یہ جنسی تعلق سے منتقل ہونے والا مرض ہے، اس لیے قدرتی طور پر مجھے گمان گزرا کہ میرا ساتھی مجھ سے بےوفائی کر رہا ہے۔’مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ غلیظ محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے احساس نہیں تھا یہ وائرس اتنے عرصے تک خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی۔ میرے کسی ساتھی نے اس کے بارے میں نہیں سنا تھا، حالانکہ یہ اکثر خواتین کو لاحق ہو سکتا ہے۔‘

ایچ پی وی کے بارے میں عام غلط فہمیاںغلط فہمی 1: یہ وائرس صرف جنسی تعلق سے پھیل سکتا ہے حقیقت: یہ درست ہے کہ عام طور پر یہ وائرس جنسی تعلق سے پھیلتا ہے، لیکن یہ جلد کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور جنسی اعضا اور منھ کے آس پاس کی جگہوں سے۔ غلط فہمی 2: ایچ پی وی کا مطلب بےراہ روی ہےحقیقت: 80 فیصد لوگ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایچ پی وی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرت میں پھیل سکتا ہے اور پہلے جنسی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ غلط فہمی 3: ایچ پی وی کا مطلب کینسر ہےحقیقت: ایچ پی وی کی 200 کے قریب اقسام ہیں۔ ان میں سے 13 کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔(ماخذ: جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ) ایچ پی وی کے خلاف ایک موثر ویکسین موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ گذشتہ برس برطانیہ میں مردوں میں بھی ویکسین متعارف کروائی گئی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}