جنرل اسمبلی میں یروشلم کی حیثیت پر قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

جنرل اسمبلی میں یروشلم کی حیثیت پر قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

December 21, 2017 - 22:50
Posted in:

نیویارک — 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکہ کی جانب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف قرار داد منظور کر لی۔ قرار داد کے حق میں 128 اور مخالفت میں صرف 9 ووٹ آئے۔ جب کہ اس موقع پر 35 ملک غیر حاضر رہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ یہ دیکھے گا کہ کون سے ملک اقوام متحدہ میں امریکہ کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اس دن کو یاد رکھے گا جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کو اس معاملے پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے اس کا حق تھا۔
ہم اس دن کو یاد رکھیں گے کہ جب ہمارے بارے میں یہ ایک بار پھر یہ بتایا جائے گا کہ ہم اقوام متحدہ کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی یاد رکھیں گے کہ جب وہ ہمیں مدد کے لیے کاریں گے، جیسا کہ وہ عموماً ہمیں زیادہ فنڈز دینے کے لیے اور اپنے مفاد میں اثر ورسوخ استعمال کرنے کے لیے کہتے ہیں۔
قرار داد پر رائے شماری سے پہلے بحث ہوئی جس میں کئی ملکوں کے سفیروں نے یروشلم کے بارے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا ۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے لیے پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔ بیت المقدس کے بارے میں امریکہ کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ ہم بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی آخری امید ہے۔ دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرار دار کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

VOA بشکریہa {display:none;}