جمائمہ آفریدی: ’میرا مقصد روٹیاں پکانا نہیں ہے‘

جمائمہ آفریدی: ’میرا مقصد روٹیاں پکانا نہیں ہے‘

November 08, 2018 - 17:00
Posted in:

وہ ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں خواتین کو آزادانہ طور پر گھر کی دہلیز پار کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی انھیں تعلیم یا کھیل کود کے یکساں مواقع میسر ہیں۔ وہاں نام نہاد 'غیرت' خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود وہ کرکٹ میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں۔یہ کہانی ہے 17 سالہ قبائلی طالبہ اور کھلاڑی جمائمہ آفریدی کی جو آج کل کرکٹ کے میدان میں قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ سٹار کھلاڑی شاہد آفریدی سے متاثر جمائمہ آفریدی کا تعلق قبائلی ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سے ہے جہاں وہ فوج کے زیر انتظام چلنے والے ایک تعلیمی ادارے میں انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ہیں۔جمائمہ آفریدی نے حال ہی میں پشاور میں پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی طرز پر منعقد ہونے والے خواتین ٹی ٹونٹی سپر لیگ میں فاٹا کی ٹیم کی نمائندگی کی۔مزید پڑھیےمرد و خواتین کرکٹرز مساوی کیوں نہیں؟ ’خواتین کرکٹ کا مستقبل نوجوان کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہے‘

فاٹا کی ٹیم ویسے تو کئی کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن ان میں جمائمہ آفریدی واحد ایسی کھلاڑی تھیں جن کا حقیقی تعلق فاٹا سے ہے اور وہیں ان کی پیدائش ہوئی۔اس ٹی ٹونٹی لیگ میں ملک بھر سے آئی ہوئی آٹھ ٹیموں نے شرکت کی۔ ان میں فاٹا اور کشمیر کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔ جمائمہ آفریدی کے مطابق وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی ہیں وہاں کرکٹ کھیلنا یا وہاں کی لڑکی کا گھر سے نکل کر کسی دوسرے شہر میں جا کر کسی لیگ میں شرکت کرنا ایک بڑا خواب سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے والد کی سپورٹ اور محنت کے باعث یہ خواب اب حقیقت کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ 'مجھے بچپن سے کھیل کود کا شوق تھا لیکن کرکٹ میں نے شاہد آفریدی کو دیکھ کر شروع کی، وہ نہ صرف میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں بلکہ میں ان ہی کی طرح جارحانہ کرکٹر بننا چاہتی ہوں۔'

جمائمہ آفریدی نے کبھی کسی گراؤنڈ میں کرکٹ سیکھنے کی کوئی ٹریننگ نہیں کی اور نہ کبھی کسی کوچ سے باقاعدہ تربیت حاصل کی بلکہ وہ اپنے گھر میں ہی اپنے والد سے کرکٹ کی تربیت حاصل کرتی رہی ہیں۔ ان کے والد ہمیشہ سے ان کے لیے ہر رکاوٹ کے خلاف ایک ڈھال سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان کے کرکٹ کے کوچ بھی ہیں تاہم وہ کوئی پیشہ ور کھلاڑی نہیں رہے ہیں۔'میں کرکٹ میں اپنا کرئیر بنانا چاہتی ہوں، میرا مقصد روٹیاں پکانا نہیں ہے، روٹیاں پکانا تو بعد میں بھی سیکھا جا سکتا ہے لیکن کرکٹر بننے کا ایک خاص وقت ہوتا ہے اور میری کوشش ہے کہ میری پہلی ترجیح کھیل ہو کیونکہ میں اسی کھیل میں اپنا نام بنانا چاہتی ہوں۔'جمائمہ آفریدی نے بتایا کہ جب سے انھوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی ہے اس کے بعد سے وہ مسلسل مختلف مشکلات سے گزرتی رہی ہیں لیکن وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔'کبھی کسی کو میرے ٹریک سوٹ پہننے پر اعتراض ہے تو کسی کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میں گھر سے باہر کیوں جا رہی ہوں لیکن مجھے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ جب تک میرے والد میرے ساتھ ہیں یہ فضول باتیں مجھے اپنے مقصد سے نہیں ہٹا سکتی اور نہ کبھی میں ان پر توجہ دیتی ہوں‘۔جمائمہ آفریدی جب پیدا ہوئیں تو ان کے والد نے ان کا نام گل پانڑہ رکھا تھا۔ تاہم جب وہ ایک یا دو سال کی تھیں تو ایک دن موجودہ وزیراعظم عمران خان اپنی سابق بیوی جمائمہ خان کے ہمراہ خیبر ایجنسی کا دورہ کرنے آئے جہاں ان کے والد جمائمہ خان کی لوگوں کے ساتھ علیک سلیک سے کافی متاثر ہوئے اور انھوں نے اپنی بیٹی کا نام تبدیل کرکے جمائمہ رکھ دیا۔

جمائمہ آفریدی کا کہنا ہے کہ قبائلی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا شعبہ لیکن بدقسمتی سے ان کو بہتر سہولیات اور مواقع میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ ہر میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ جمائمہ آفریدی فاسٹ بولر ہیں اور ان کی خواہش ہیں کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں۔ انھوں نے کہا 'میں نے خواتین ٹی ٹونٹی لیگ میں شرکت کر کے قبائلی لڑکیوں کے لیے راہ ہموار کر دی ہے لہذا جو اپنی مرضی سے کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوانا چاہتی ہیں انھیں اس طرف آنا چاہیے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}