جسٹس جاوید اقبال نے 70فیصد لا پتا افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا

جسٹس جاوید اقبال نے 70فیصد لا پتا افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا

April 16, 2018 - 22:55
Posted in:

کراچی(رپورٹ: خالد مخدومی)لاپتا افراد کمیشن کے سربراہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو اعداد وشمار میں الجھادیا،اہم سوالات کے جواب فراہم نہیں کیے گئے، کمیشن کی ناقص کارگر دگی کو چھپانے کے لیے 70 فیصد لاپتا افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا،اس سے قبل کمیشن کے سیکرٹری” جسارت” سے گفتگو میں لاپتا افراد کو جنگی قیدی قرار دے چکے ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بھی نامعلوم خوف کی بناپر رسمی اجلاس تک محدود رہی۔ تفصیلات کے مطابق لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے گزشتہ روزقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کمیشن کی کارگردگی اور لاپتا افراد کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔جسٹس(ر)جاوید اقبال نے اپنی رپورٹ میں لاپتا افراد کے بارے میں جواعداد شمار پیش کیے،ان کے مطابق مارچ 2011ء سے فروری 2018ء تک کمیشن کو4929 کیسزموصول ہوئے جن میں3219کیسز نمٹادیے گئے تاہم انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے ان”نمٹائے ” گئے کیسز کی نوعیت ان کے نمٹانے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم خود کمیشن کی جانب سے وقتاًفوقتاً جاری ہونے والی دستاویزات میں سرسری طور پر اس بات کاتذکرہ ملتاہے کہ برسو ں سے لاپتا افرادمیں سے فلاں فلاں اچانک اپنے گھر پہنچ گئے ہیں تاہم ان دستاویزات میں اس بات کاکوئی ذکر موجود نہیں ہو تاکہ گھر پہنچنے والامذکورہ شخص برسوں سے کس ادارے کی تحویل میں تھااور اس کو کس جرم میں گرفتار کیاگیا،ملک کی کس عدالت میں اس کو پیش کیاگیا اور اگر بے گناہ گرفتار کیاگیا تو ایک معصوم شہری کوبرسوں قید میں رکھنے والے شخص یاادارے کے خلاف کوئی کارروائی بھی کی جاسکی یا نہیں ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نامعلو م خوف یادباؤ کی وجہ سے جسٹس(ر)جاوید اقبال سے اس بارے میں کوئی وضاحت طلب کرنے سے قاصر رہی ،3219کیس نمٹانے کادعویٰ کرنے والے جسٹس(ر)جاویداقبال نامعلوم افراد کے ہاتھوں جبری لاپتا ہونے والے افرادکی لاشوں کی صورت میں ملنے کو بھی کیس نمٹنا قرار دیتے ہیں اورمذکورہ شخص کیوں اور کس جرم میں مار اگیا،اس بارے میں کمیشن مکمل طور پر خاموشی اختیارکیے ہوئے ہے۔کمیشن کے سربراہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں کہا کہ بطورسربراہ کمیشن کسی قسم کادباؤنہیں تھا۔دوسری طرف جبری طور پرلاپتا کیے گئے سیکڑوں افراد کے بارے میں ایم آئی اور آ ئی بی نے اعتراف کیا ہے کہ سیکڑوں افرادان کے پاس برسوں سے قید ہیں اور اس دوران ان کو کسی بھی قا نونی کارروائی سے نہیں گزارا گیا۔ ملکی قوانین کے مطابق کسی بھی شہری کو کسی سنگین ترین جرم میں گرفتاری کے بعد 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنالازمی ہے۔اعلیٰ ترین عدالت کے ایک سابق جج ہو نے کی حیثیت سے ا س بات کا اچھی طرحعلم ہونے باوجو جسٹس(ر) جاوید اقبال کی جانب سے ایم آئی اور آئی بی سے ا س معاملے پروضاحت طلب نہ کرنامعنی رکھتاہے اور قائمہ کمیٹی کے سامنے ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونے کے دعویٰ کی نفی کرتاہے،لاپتا افراد کاکمیشن کس قسم کے دباؤکاشکار ہے کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب” جسارت” نے فاٹا میں قائم فوجی نگرانی میں چلنے والے حفاظتی مراکز میں برسوں سے لاپتا افرادکی موجودگی اور ان مراکز میں قوانیں کی خلاف ورزدی کی اطلاعات پرجبری طور لاپتا افراد کمیشن کے سیکرٹری فرید احمد خان نے ا س بارے میں بات کی توانہوں نے فاٹاکے حراستی مرا کز میں قید پاکستانیوں سمیت تمام لاپتا افراد کو جنگی قیدی قرار دے دیا۔جسٹس(ر)جاوید اقبال نے قائمہ کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہو ئے دعویٰ کیاکہ جبری طور پرلاپتا افراد میں سے 70فیصدکودہشت گردقرار دے دیا جو فوجیوں کو مارکر ان کے سروں سے فٹبال کھیلتے تھے ۔دوسری طرف ان کے اپنے ریکارڈ کے مطابق929 4سے زائد جبری لاپتا افرادمیں سے 3ہزار سے زائد افراد واپس اپنے گھروں کو آ گئے ہیں ۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}