جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی

جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی

December 05, 2017 - 06:40
Posted in:

جب چھ دسمبر سنہ 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد مسمار کی گئی تو انڈیا کے مسلمانوں کو لگا کہ ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہے۔ اس کے بعد ملک میں مذہبی فسادات شروع ہو گئے جن میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے۔25 سال گزر جانے کے بعد اب اس تنازع میں وہ پہلے کی سی کشش باقی نہیں، نہ ہندوؤں کے لیے اور نہ ہی مسلمانوں کے لیے لیکن بات وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے۔جہاں کبھی بابری مسجد کے تین گمبد ہوا کرتے تھے وہاں ایک عارضی رام مندر تعمیر ہے، مسجد کی مسماری کے چند گھنٹوں کے اندر ہی وہاں مورتیاں نصب کر دی گئی تھی۔ جو لوگ مسجد کی مسماری میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث تھے ان میں سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔یہ بھی پڑھیےایودھیا نزاع میں ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘بابری مسجد: بی جے پی کے تین سینیئر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے' اس بارے میں دو مقدمے الہ آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور متنازع آراضی کا مقدمہ 70 برس کی لمبی قانونی لڑائی کے بعد اب سپریم کورٹ میں سنا جانا ہے۔یہ تنازع پیچیدہ اور پرانا ہے۔ عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ زمین کس کی ہے اور اس پر کس کا اور کتنا حق ہے؟ فریقین کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس مالکانہ حقوق ثابت کرنے کے لیے دستاویزات موجود ہیں لیکن سنہ 2010 میں الہ آبادی ہائی کورٹ نے مذکورہ زمین تینوں فریقوں (رام للا، نرموہی اکھاڑا اور سنی وقف بورڈ) میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تینوں نے ہی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک فریق کے لیے یہ تنازع عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ ہندو مانتے ہیں کہ جس جگہ بابری مسجد تعمیر تھی وہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور بابری مسجد وہاں پہلے سے موجود ایک مندر توڑ کر بنائی گئی تھی۔مسلمانوں کا موقف ہے کہ یہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور وہاں مسماری سے پہلے ساڑھے چار سو سال سے ایک مسجد موجود تھی جو سنہ 1528 میں مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ لیکن یہ صرف دو تین ایکڑ زمین کے مالکانہ حقوق کا مسئلہ نہیں ہے۔ بابری مسجد کی مسماری نے انڈیا کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ اس وقت مرکز میں کانگریس اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے سپریم کورٹ میں یہ ضمانت دی تھی کہ بابری مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اب وفاق میں جے پی کی حکومت ہے اور اتر پردیش میں بھی۔ایسے بہت سے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب بس ختم ہونا چاہیے، کسی نے مجھے سے کہا کہ سپریم کورٹ کیا یہ نہیں کہہ سکتی کہ مقدمے کی سماعت 50 سال بعد کی جائے گی اور تب تک اسے ٹھنڈے بستے میں رکھ دیا جائے۔مسجد کی مسماری سے پہلے اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے قانوی چارہ جوئی کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گی۔ ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ہی ممکنہ فیصلے ہو سکتے ہیں، جہاں مسجد تھی وہ زمین ہندوؤں کو دے دی جائے یا مسلمانوں کو اور یہ فیصلہ آئندہ برس کے آخر تک آنے کی توقع ہے۔اگر زمین ہندوؤں کو ملتی ہے تو مندر کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جاتی۔ مسلمان تنظیموں کو اپنے موقف پر قائم رہنا ہوگا، ایودھیا میں ایک عالیشان مندر تعمیر ہو جائے گا جس کی تیاری برسوں سے جاری ہے۔ یہ فیصلہ اگر سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے آ جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ بی جے پی کو زبردست سیاسی فائدہ ہوگا کیونکہ مندر کی تحریک بنیادی طور پر اسی نے چلائی تھی۔لیکن اگر زمین پر مسلمانوں کا حق ثابت ہوجاتا ہے تو کیا ہوگا؟کیا ملک کی کوئی حکومت متنازع زمین مسلمانوں کو واپس کرنے کا سیاسی خطرہ مول لے سکتی ہے؟ کیا وہاں سے عارضی رام مندر ہٹایا جا سکتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟ سیاسی بھی اور قانونی بھی؟اگر بی جے پی کے دور اقتدار میں یہ فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ کیا پارٹی کے رہنما اپنے مداحوں سے یہ کہہ سکیں گے کہ عدالت کا فیصلہ ہمارے خلاف گیا ہے اور رام مندر تو تعمیر ہو گا لیکن اس جگہ نہیں جہاں ہم نے وعدہ کیا تھا؟ ان سوالوں کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔ یہ پیچیدہ کہانی اب اپنے ا نجام کو پہنچ رہی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں جاتا ہے اور وفاقی حکومت اس پر تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے تو ملک کی سیاست پھر ایک نیا موڑ لے گی، اسی طرح جیسے سنہ 1992 میں لیا تھا، کیونکہ یہ لڑائی صرف اس زمین کی نہیں ہے جہاں بابری مسجد تعمیر تھی، لڑائی اس زمین کی بھی ہے جو مسجد کی مسماری کے ساتھ ہی مسلمانوں کے پیروں کے نیچے سے کھسک گئی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}