تیراندازی پر سٹے بازی، کمائی کا بڑا ذریعہ

تیراندازی پر سٹے بازی، کمائی کا بڑا ذریعہ

June 12, 2018 - 08:23
Posted in:

آپ نے تیروں سے شکار کرنے، نشانے بازی کے مقابلے اور جنگ لڑنے کی بات تو سنی ہو گی لیکن کیا آپ نے تیر اندازی سے لاٹری کے بارے میں سنا ہے؟اگر آپ کو یقین نہیں تو ہمارے ساتھ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میگھالیہ چلیے۔میگھالیہ کا معنی بادلوں کا گھر ہوتا ہے۔ ریاست کا دارالحکومت شیلونگ ہے اور شیلونگ کے پولیس مارکیٹ سے گزریں تو سڑک کے دونوں کنارے آپ کو چھوٹی چھوٹی دکانیں نظر آئيں گی۔ان دکانوں میں آپ کو کچھ ایسی چیزیں فروخت ہوتی نظر آتی ہیں جو لاٹری کے ٹکٹ کی طرح ہیں۔ ان دکانوں کے سامنے بلیک بورڈ پر کچھ ہندسے لکھے ہوتے ہیں۔دکانوں کے باہر کھڑے لوگ ان اعداد کے بارے میں جوش و خروش سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ پھر وہ دکان سے پرچیاں خریدتے ہیں اور انھیں بلیک بورڈ پر درج نمبروں سے ملاتے ہیں۔

مقامی حکومت کے مطابق ریاست میں تقریبا پانچ ہزار سٹے باز ہیں جو تیر اندازی پر سٹہ لگاتے ہیں۔ ان میں سے صرف شیلونگ میں 1500 سرگرم ہیں۔تیر اندازی کے سٹے میں ایک روپے کے بدلے 500 روپے تک کی کمائي ہو سکتی ہے۔ ہارنے پر نئی بازی کا انتظار کیا جاتا ہے۔مقامی سفری بلاگر امرتا داس یہیں پلی بڑھی ہیں لیکن اب یہاں نہیں رہتیں۔ بہر حال اپنے والدین سے ملنے کے لیے ایک سال میں تین چار بار یہاں آتی ہیں۔وہ جب بھی یہاں آتی ہے وہ سٹے بازی میں شرکت کرتی ہیں۔ انھیں بورڈ پر لکھے نمبر بہت لبھاتے ہیں۔ڈیسمنڈ کھرماپھلانگ کا کہنا ہے کہ سٹے بازی کی وجہ سے ماضی کی تیر اندازی کی یہ ثقافت یہاں آج بھی زندہ ہے۔اب ریاستی حکومت اسے فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ لوگوں کو تیر اندازی سکھانے کے لیے کلب کھولے گئے ہیں۔اب کھاسی قبائل کے علاوہ دوسری کمیونٹی کے لوگ بھی تیر اندازی سیکھ رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}