تاج محل کی سیلفیاں لینے پر بندر اشتعال میں آ گئے

تاج محل کی سیلفیاں لینے پر بندر اشتعال میں آ گئے

May 23, 2018 - 00:46
Posted in:

تاج محل کی سیاحت کے دوران دو فرانسیسی سیاحوں پر بندروں کے ایک گروپ نے اس وقت حملہ کر دیا جب وہ سیلفیاں بنا رہے تھے۔
ڈیوٹی پر موجود پولیس اہل کاروں نے سیاحوں کو بندروں کے نرغے سے نکالا لیکن اس دوران بندروں کے کاٹنے اور ناخن مارنے سے وہ زخمی ہو گیے اور خون بہنے لگا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ سیاحوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد عہدے داروں نے سیاحوں سے کہا کہ وہ بندروں سے دور رہیں اور خصوصاً انہیں کھانے پینے کی چیزیں نہ دیں۔
موبائل فون سے اس واقعہ کی بنائی گئی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کی صبح جب آگرہ شہر کی اس تاریخی یادگار پر فرانسیسی سیاح تصویریں اور سیلفیاں بنا رہے تھے، بندروں کے ایک گروپ نے پہلے ان کا پیچھا کیا اور پھر ان پر ٹوٹ پڑے۔
پولیس آفیسر آر وی پانڈے نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ غیر ملکی سیاح تاج محل کے سامنے اپنی سیلفیاں بنا رہے تھے کہ اچانک بندروں نے ان پر حملہ کر دیا۔
تاج محل کے احاطے میں بندروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور وہ گروہوں کی شکل میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ بندروں کو سیاحوں سے دور رکھنے کے لیے کوششیں کرتی رہتی ہے لیکن ہندو دھرم میں ایک قابل احترام مقام رکھنے کی بنا پر زیادہ سختی نہیں کرتی۔
فرانسیسی سیاحوں پر بندروں کے حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔
تاج محل کے احاطے میں گھومنے والے بندر اتنے نڈر اور دلیر ہیں کہ سیاحوں کے ہاتھوں سے کھانے پینے کی چیزیں چھین کر بھاگ جاتے ہیں۔
پچھلے سال ایک بندر ایک خاتون سیاح کا پرس چھین کر بھاگ گیا تھا۔ جب اس نے پیچھا کیا تو بندروں کا ایک گروپ اس پر جھپٹ پڑا اور اسے زخمی کر دیا۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت میں بندروں کی تعداد پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جب کہ ایک ہزار سے زیادہ بندر تو صرف تاج محل کے احاطے میں ہی موجود ہیں۔
بہت سے ہندو بندروں کا اپنے دیوتا ہنومان کی طرح مقدس سمجھ کر اس کی تنظیم و احترام کرتے ہیں اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں۔
بھارت میں ہرسال بندروں کے حملوں میں لوگ کی ایک بڑی تعداد زخمی ہو جاتی ہے، تاہم اس بارے میں اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔
تاہم دارالحکومت دہلی کے 2016 کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ، اس شہر میں بندروں کے کاٹنے کے 1900 سے زیادہ واقعات ہوئے۔

VOA بشکریہa {display:none;}