بی ایس سی نرسنگ میں صنفی تفریق ختم کرنے کامطالبہ

بی ایس سی نرسنگ میں صنفی تفریق ختم کرنے کامطالبہ

April 16, 2018 - 20:58
Posted in:

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر اعجاز علی کلیری نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کی نرسز کو ترقیاں دی جائیں، بی ایس سی نرسنگ میں صنفی تفریق ختم کی جائے، غیر معیاری اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور لائسنس امتحان کو ختم کیا جائے۔ وہ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر دیگر عہدیداران و نرسز بھی موجو دتھے۔ انہوں نے کہا کہ نرسوں کو 20 سال سے ترقیاں نہیں دی گئیں اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے قریباً ایک سال قبل اپنی سفارشات
سیکریٹری صحت کو بھیج دی تھیں لیکن ان سفارشات پر آج تک عمل نہیں کیا گیا نہ ہی نرسز کو ترقیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نرسنگ کونسل نے بی ایس سی نرسنگ میں لڑکیوں کے لیے 90 فی صد جب کہ لڑکوں کے لیے صرف 10 نشستیں مختص کر رکھی ہیں جو سراسر زیادتی ہے، نشستوں کی تقسیم یا تو میرٹ پر کی جائے یا برابری کی بنیاد پر نشستیں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی این سی نے عجیب قانون بنا رکھا ہے کہ صوبائی بورڈ کا امتحان پاس کرنے کے باوجود لائسنس لینے کے لیے پی این سی کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نرسوں کو ترقیاں دی جائیں، ان کے مسائل حل کیے جائیں اور پی این سی نرسز کو تنگ کرنے کے بجائے ان کے لیے آسانی پیدا کرے کیوں کہ اس سے نرسیں مایوسی کا شکار ہو رہی ہیں۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}