بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ارب پتی جوڑے نے اپنی تین سالہ بچی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا تیاگ دی

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ارب پتی جوڑے نے اپنی تین سالہ بچی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا تیاگ دی

September 25, 2017 - 22:40
Posted in:

اس جوڑے کے سادھو بننے پر تنقید کی وجہ خاص طور پر تین سالہ بیٹی ابھیہ کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ سماجی کارکنوں نے مقامی حکام اور بھارت کے قومی ہیومن رائیٹس کمشن کو بھی درخواست دی تھی۔

واشنگٹن — 
بھارت میں جین مذہب سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سومیت راٹھور اور اُن کی 34 سالہ بیوی انامکا راٹھور نے اپنی ایک ارب ڈالر کی پونجی اور تین سالہ بیٹی کو چھوڑ کر مونک بننے کی راہ اختیار کر لی ہے۔
دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ میاں بیوی نے مونک بن کر دنیا تیاگ دینے کا فیصلہ اکٹھے کیا تھا لیکن جب سومیت راٹھور دو روز قبل ہفتے کے دن اس کٹھن سفر پر روانہ ہوئے تو اُن کے اس اقدام پر بھارت کے متعدد حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی جس کے بعد توقع تھی کہ سومیت کی بیوی انامکا کیلئے یہ راستہ اختیار کرنا طویل عرصے تک ممکن نہیں رہے گا۔ تاہم اُنہوں نے حالات کی پروا کئے بغیر اپنے شوہر کے دو روز بعد ہی اپنی دولت، عزیز رشتے اور دنیا چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور سادھوی بن گئیں۔
جین مذہب کے پیروکاروں کی تنظیم کے ایک لیڈر سندیپ کھابیہ نے کہا کہ انامکا کے سادھوی بننے کی تقریب سورت شہر میں اسی گرو کے ہاتھوں انجام پائی جس نے اُن کے شوہر کے سادھو بننے کی تقریب انجام دی تھی۔ سادھوی بننے کے بعد انامکا کا نام سادھوی اناکار رکھا گیا ہے۔
اس جوڑے کے سادھو بننے پر تنقید کی وجہ خاص طور پر تین سالہ بیٹی ابھیہ کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ سماجی کارکنوں نے مقامی حکام اور بھارت کے قومی ہیومن رائیٹس کمشن کو بھی درخواست دی تھی۔ تاہم جین مذہب کے ایک اعلیٰ پروہت سنت اوڈائی مونی نے کہا تھا کہ جین مذہب کے راہنما کسی بھی عدالت یا سرکاری حکام کی جانب سے اُن کے مذہب میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ سادھوی اناکار نے یہ راہ اختیار کر کے پولیس اور سرکاری اہلکاروں کو مناسب جواب دے دیا ہے جو اُن سے بھارتی ہیومن رائٹس کمشن کے کہنے پر پوچھ گچھ کیلئے آئے تھے۔
سنت اوڈائی مونی نے کہا کہ سادھوی بنتے وقت انامکا نے سرکاری اہلکاروں کو بتایا تھا کہ اُن کی بیٹی یتیم نہیں رہے گی کیونکہ اُن کے بھائی اور بھابھی کی کوئی اولاد نہیں ہے اور اُنہوں نے بخوشی اسے گود لے لیا ہے۔ انامکا نے بتایا کہ اُن کے والدین اور اُن کے شوہر کے والدین بے حد امیر ہیں۔ انامکا کے والد نے کہا ہے کہ وہ اپنی پوتی کا خیال رکھیں گے۔ انامکا نے اس موقع پر اپنی بیٹی کو بھائی اور بھابھی کی طرف سے گود لینے کی قانونی دستاویزات بھی سرکاری حکام کو دکھائیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سومیت اور انامکا نے سادھو بننے کا فیصلہ اسی وقت کر لیا تھا جب اُن کی بیٹی ابھیہ صرف آٹھ ماہ کی تھی۔ اس جوڑے کی شادی چار برس پہلے ہوئی تھی۔ سادھو بننے کے بعد اُنہوں نے تا حیات خاموش رہنے کی قسم کھائی ہے۔

VOA بشکریہa {display:none;}