بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، جنرل زبیر محمود

بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، جنرل زبیر محمود

November 14, 2017 - 12:07
Posted in:

بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، جنرل زبیر محمود حیات
جنرل زبیرمحمودحیات نے کہا ہے کہ بھارت سے بہتر تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے، بھارت طالبان ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور را کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، وہ آگ اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا لیکن بھارت ایسا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میںبین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل زبیر کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے۔ بھارت سیکولر سے انتہاپسند ہندو ملک بن چکا،مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور پاکستان کیخلاف رویہ اس کی مثال ہے،ہر 20 کشمیریوں پر ایک فوجی ہے، 94 ہزار کشمیری شہید کیے جا چکے، ہزاروں کشمیریوں کی بینائی جاچکی ہے۔بھارت کو دوٹوک پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر جوہری جنگ کا پیش خیمہ ہے ،کسی بھی قسم کا غلط اندازہ خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ذمےداریوں سے آگاہ مگر دفاع سے غافل نہیں،تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں،کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم اور پاکستان کی طرف جنگی ہیجان واضح ہے، پاکستان تمام حالات کے تناظر میں کم از کم جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔
جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ جنوبی ایشیامیں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہے ہیں،سرجیکل اسٹرائیک جیسے شوشے اس کی ایک اہم مثال ہے، پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے،افغانستان میں عدم استحکام خطےکے لیےنقصان دہ ہے،افغان سرزمین پر دہشت گردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں،افغانستان میں کمزور گورننس اور دراڑ زدہ مفاہمتی عمل مسائل کا پیش خیمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں سیاسی و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے،جنوبی ایشیاکے جغرافیائی، معاشی، تذویراتی اور سیاسی امور کو دیکھنا ہو گا،جنوبی ایشیامیں علاقائی جہتیں اور خدشات کو دیکھنا ہوگا،پاکستان کی ہمسایہ ممالک کےساتھ دوستی اور بہتر تعلقات مفید پالیسی ہے۔
جنرل زبیر نے مزید کہا کہ افغانستان، ایشیاکاگیٹ وے ہے،دنیا کے مستقبل کی اقتصادی اور فوجی طاقتیں جنوبی ایشیامیں ہوں گی،ممالک کو روکنے اور گھیرنے کی پالیسی خطے کیلیےنقصان دہ ہے۔
 

googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-rectangle_belowpost_btf'); });

بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}