بڑھتی عمر بھوک پر کیا اثر ڈالتی ہے؟

بڑھتی عمر بھوک پر کیا اثر ڈالتی ہے؟

July 04, 2018 - 07:24
Posted in:

خوراک کی ضرورت ہم سب کو روزانہ ہوتی ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ ہمارا کھانے سے تعلق تبدیل ہوتا ہے اور اس سے ہماری صحت پر گہر اثر پڑتا ہے۔ کیا آپ کھانے کے لیے جیتے ہیں یا جینے کے لیے کھانا کھاتے ہیں؟ ہمارا اپنی غذا کے ساتھ کافی پیچیدہ رشتہ ہے اور اس کا انحصار کھانے کی قیمت، دستیابی، اور ہمارے ساتھیوں کی پسند ناپسند پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ بلاتفریق ہم سب میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے کھانا کھانے کی خواہش۔ جب ہم بھوکے ہوتے ہیں تو اس وقت تو ہم کھانا کھانے کی خواہشمند ہوتے ہی ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم لوگ اس وقت بھی خوراک نوش کرتے ہیں جب ہم بھوکے نہیں ہوتے اور کبھی ہم شدید بھوک لگنے کے باوجود بھی کھانا نہیں کھاتے۔ صحت سے متعلق جاننے کے لیے مزید پڑھیے’نشاستہ والی غذاؤں کو زیادہ بھوننا صحت کے لیے خطرناک‘ایک قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟'چینی مکمل طور پر چھوڑنا ایک بڑی غلطی تھی'حالیہ تحقیق کے مطابق ہمارے اطراف کا ماحول ہمیں کھانا کھانے پر مجبور کرتا ہے اور ایسے اشارے دیتا ہے جس سے ہم خواہش سے زیادہ خوراک کھاتے ہیں۔ انسانوں کے زندگی میں خوراک سے تعلق عمر کے مختلف حصوں میں تبدیل ہوتا ہے اور اس رشتے کو سمجھنے کے لیے اس کو سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی دہائی - پیدائش سے لے کر دس برس تک کی عمر

اوسط عمر بڑھنے سے جو دوسرا چیلینج درپیش آیا ہے وہ ہے کہ اچھی زندگی کیسے گزاری جائے ورنہ خدشہ ہے کہ ہمارا معاشرہ عمر رسیدہ افراد سے بھرا ہوا ہوگا جو لاغر اور نخیف ہوں گے اور اپنا خیال رکھنے سے قاصر ہوں گے۔ بڑی عمر کے افراد کے لیے اچھی خوراک حاصل کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ ان کا وزن خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے مختلف بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری زندگی میں کھانے کی کتنی اہمیت ہے اور یہ ہمیں صرف غذائیت نہیں دیتا بلکہ ہمارے سماجی اور معاشرتی عادات کا اہم جزو ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کھانا مزے لے کر کھایا جائے اور صحت بخش خوراک ہماری صحت پر مثبت اثرات ڈالے گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}