بچوں کا زکام روکنے کے ٹوٹکے کتنے موثر

بچوں کا زکام روکنے کے ٹوٹکے کتنے موثر

October 12, 2018 - 07:15
Posted in:

مانیں نہ مانیں، بچوں کو سال میں چھ سے آٹھ دفعہ زکام ہو ہی جاتا ہے، یعنی بڑوں کے مقابلے میں دوگنا۔ کہنے کو بچوں میں بند یا بہتی ناک اور چھینکوں پر قابو پانے کے کئی نسخے ہیں، لیکن کیا ثبوت ہے کہ یہ ٹوٹکے واقعی کام کرتے ہیں؟کسی بھی ادویات کی دکان یا سپرمارکیٹ میں چلے جائیں تو وہاں آپ کو ایسی کئی ادویات نظر آئیں گی جن کے بنانے والے دعوی کرتے ہیں کہ ان سے زکام یا ٹھنڈ لگ جانے کی علامات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن برطانیہ سے شائع ہونے والے طبی جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دستیاب ان ادویات کے موثر ہونے کا ثبوت نہ ہونے کے برابر ہے۔اسی بارے میں’زکام اور فلو سے بچنے کے لیے وٹامن ڈی استعمال کریں‘پہلا فلو زندگی بھر کے خطرے کو متاثر کرتا ہےنہ صرف یہ، بلکہ ان میں کچھ نسخے بچوں اور حاملہ خواتین دونوں کے لیے مناسب نہیں ہیں، مثلاً بند ناک کان کھولنے کے لیے دستیاب ’ڈی کنجسٹنٹ‘۔جریدے کا کہنا ہے کہ زکام کی علامات، جیسے گلے میں خراش، کھانسی، ناک کان بند ہو جانا، بخار اور چھینکیں، اگر ان کا کوئی علاج نہ بھی کیا جائے تو یہ علامات ہفتے بھر میں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ زکام کا کوئی جادوئی علاج موجود نہیں۔ ایسا کچھ نہیں کہ گولی لی اور زکام رفو چکر۔

ڈاکٹر کے پاس بچے کو کب لے کر جائیں؟ماہرین کے مطابق آپ کو چاہیے کہ بچے کو ڈاکٹر کو دکھائیں اگر:

  • اسں کا بخار 38.5 سے زیادہ ہونا شروع ہو جائے
  • جسم پر دانے نکل آئیں یعنی ریش ہو جائے اور وہ ختم نہ ہو
  • کئی دنوں بعد بھی زکام کی علامات ختم نہ ہوں۔

مزید کوئی مشورہ؟زکام سے جلد جان چھڑانے کے لیے بچوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں اور گرم رکھیں۔عمومی زکام دراصل ان وائرس سے ہوتا ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ جاتے ہیں، خاص طور پر بچوں میں۔تو زکام سے بچے رہنے کے آسان نسخے صابن لگا کر نیم گرم پانی سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا اور اپنی آنکھوں کو ہاتھ نہ لگانا ہیں۔ چھینک مارتے وقت ناک اور منہ کے سامنے ٹِشو رکھیں اور پہلی فرصت میں اس ٹشو کو پھینک دیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}