بورس جانسن کے بیان پر ایرانی قیدی کے اہلخانہ پریشان

بورس جانسن کے بیان پر ایرانی قیدی کے اہلخانہ پریشان

November 12, 2017 - 23:00
Posted in:

برطانوی وزیر خارجہ کے 'غیر رسمی' بیان کے بعد ایران میں قید ایرانی نژاد برطانوی خاتون کے گھر والوں کو ڈر ہے کہ ان کی سزا کو بڑھایا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ بورس جانسن نے کہا تھا کہ نازنین زغاری ریٹکلف نامی خاتون ایران میں ’صحافیوں کو تربیت دے رہی تھیں‘۔تاہم بعد میں بورس جانسن نے اس پر معذرت کی اور بار بار کہا کہ وہ وہاں چھٹیاں گزارنے گئی تھیں۔ اتوار کو ان کے شوہر کی بورس جانسن سے بات بھی ہوئی۔یہ بھی پڑھیےبرطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیاایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمدٹورفین میں رہنے والی ان کی نند کو ڈر ہے کہ اس بیان کو ان نازنین زغاری کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نازنین نے اپنے اوپر لگے تمام الزام کو مسترد کیا تھا تاہم وہ اپریل 2017 میں اپنی آخری اپیل میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔وہ تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن اور بی بی سی میڈیا ایکشن کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کہنا تھا کہ ان کا 2016 کا دورہ ایران اس لیے تھا کہ ان کی بیٹی اپنے نانا نانی سے مل سکے۔اس سے قبل وزیر خارجہ نے خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو فون کیا اور انھیں بتا دیا ہے کہ ان کے الفاظ یہ 'جواز فراہم نہیں کرتے' کہ مسز نازنین ریٹکلف کی سزا میں اضافہ کیا جائے۔ مسٹر جانسن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے اس سال کے آخر تک ایران کا دورہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}