بنگلہ دیش: سابق حکومت کے وزراء سمیت 19 کو پھانسی کی سزا

بنگلہ دیش: سابق حکومت کے وزراء سمیت 19 کو پھانسی کی سزا

October 10, 2018 - 18:05
Posted in:

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 19 افراد کو سنہ 2004 میں دارالحکومت ڈھاکہ میں منعقدہ ایک ریلی پر گرینیڈ سے حملے میں ملوث ہونے پر موت کی سزا سنائی ہے۔جن افراد کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں اس وقت کی برسرِ اقتدار سیاسی جماعت بی این پی کے رہنما اور سابق وزیر اور نائب وزیر شامل ہیں۔جماعت کے موجود قائم مقام سربراہ طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔خالدہ ضیا کی سزا کے بعد بنگلہ دیش میں ہنگامےبنگلہ دیش: بائیکاٹ، تشدد زدہ انتخابات میں عوامی لیگ کامیابڈھاکہ میں طلبہ کا احتجاج، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بندخیال رہے کہ عوامی لیگ کی اس ریلی پر حملے کے نتیجے میں 24 افراد مارے گئے تھے۔ اس جماعت کی قائد شیخ حسینہ اس وقت وزیراعظم کے عہدے پر ہیں۔

اکیس اگست 2004 میں جب شیخ حسینہ ہزاروں شرکا کے سامنے اپنا خطاب مکمل کرنے والی تھیں کہ زور دھماکہ ہوا جس میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔سابق وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور لطف الزمان بابر سب سے نمایاں شخصیت ہیں جنھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

بی این پی کا کہنا ہے کہ اس کیس کو سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد جماعت کے رہنماؤں کا تشخص خراب کرنا ہے۔طارق رحمان کی والدہ اور بی این پی کی قائد خالدہ ضیاء کئی دہائیوں سے شیخ حسینہ کی سخت حریف رہی ہیں۔ خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت فروری میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}