بلوچستان: ’عبدالقدوس بزنجو وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار نامزد‘

بلوچستان: ’عبدالقدوس بزنجو وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار نامزد‘

January 12, 2018 - 02:24
Posted in:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے آئندہ کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار کے لیے ن لیگ کے منحرف اراکین اور ق لیگ کی جانب سے میر عبدالقدوس بزنجو کو متفقہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق انہیں 2013ء کے عام انتخابات میں صرف 544 ووٹ ملے تھے۔ نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔بلوچستان کے موجودہ سیاسی بحران کے بارے میں مزید پڑھیےبلوچستان: نئی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کا آغازکیا بلوچستان کے بحران میں اصل کھیل کچھ اور ہے؟وزیراعلیٰ بلوچستان تحریک عدم اعتماد سے قبل مستعفیبلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘ان کی نامزدگی کا اعلان جمعرات کی شب سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قدوس بزنجو کا تعلق ق لیگ سے ہے جو بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے پانچویں بڑی جماعت ہے۔اکثریت میں ہونے کے باوجود ن لیگ کے منحرف اراکین میں سے کسی امیدوار کی بجائے ایک چھوٹی جماعت سے ان کی نامزدگی باعث حیرت ہے۔مبصرین کے مطابق اس کی شاید ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے روح رواں تھے۔سینیئر تجزیہ نگار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ’ قدوس بزنجو اس وقت ایک مظبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے ہیں۔ اگر صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آتی تو ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں‘۔قدوس بزنجو کا تعلق بلو چستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران سے ہے اور وہ 1974میں پیدا ہو ئے۔

پہلی مرتبہ وہ 2002ء میں ضلع آواران پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 41 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ دو ہزار دو سے2007 تک وزیر لائیوسٹاک رہے۔2013 کے انتخابات میں وہ دوبارہ ضلع آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔مسلح تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث آواران میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر6 سو سے زائد ووٹ پڑے تھے۔قدوس بزنجو کو ان میں سے 544ووٹ ملے تھے جو کہ ملکی تاریخ میں کسی امیدوار پڑنے والے سب سے کم ووٹ ہیں۔قدوس بزنجو چند ماہ تک بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے لیکن بعد میں اس عہدے سے الگ ہو گئے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}