بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا

بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا

January 13, 2018 - 09:04
Posted in:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سنیچر کو کوئٹہ میں ہو رہا ہے۔ اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جن میں عبد القدوس بزنجو، عبد الرحیم زیارتوال اور آغا لیاقت شامل ہیں۔ قدوس بزنجو کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے۔ وہ ن لیگ میں سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے منحرف اراکین اور ق لیگ کے متفقہ امیدوار ہیں۔مزید پڑھیےکیا بلوچستان کے بحران میں اصل کھیل کچھ اور ہے؟وزیراعلیٰ بلوچستان تحریک عدم اعتماد سے قبل مستعفیبلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘ان کے مقابلے میں باقی دونوں امیدواروں کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں سے ن لیگ کے 21، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14، نیشنل پارٹی کے 11، جمیعت العلما اسلام کے آٹھ، ق لیگ کے پانچ ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی (عوامی )، مجلس وحدت المسلمین کے ایک، ایک رکن کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی ہے۔جمیعت العلما اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) حزب اختلاف میں ہیں۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی قدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

میر عبد القدوس بزنجو کی پوزیشن مضبوطمبصرین کے مطابق دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں میر عبد القدوس بزنجو کی پوزیشن مضبوط ہے اور ان کی کامیابی یقینی ہے۔قدوس بزنجو کا تعلق بلو چستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران سے ہے۔وہ اسی ضلع کی تحصیل جھاؤ میں 1974 میں پیدا ہو ئے۔پہلی مرتبہ وہ سنہ 2002 میں ضلع آواران پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 41 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ دو ہزار دو سے2007 تک وزیر لائیوسٹاک رہے۔2013ء کے انتخابات میں وہ دوبارہ ضلع آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔مسلح تنظیموں کی انتخابات کے حوالے سے دھمکیوں کے باعث آواران میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر6 سو سے زائد ووٹ پڑے تھے۔قدوس بزنجو کو ان میں سے 544ووٹ ملے تھے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کامیاب امیدوارکو پڑنے والے سب سے کم ووٹ ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}