بلور خاندان پر پانچ سال میں دو حملے مگر مماثلت ایک جیسی

بلور خاندان پر پانچ سال میں دو حملے مگر مماثلت ایک جیسی

July 11, 2018 - 21:05
Posted in:

پاکستان میں دہشت گردی ناکام بنانے کے حوالے سے سیکورٹی اداروں کی جانب بلندوبانگ دعوے اکثر کئے جاتے ہیں لیکن دہشت گردی کے بیشتر واقعات ایک ہی علاقے، وقت اور ہوبہو انداز میں کئے جاتے ہیں کہ انہیں سیکورٹی اداروں کی جانب سے ناکام بنانے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات سامنے نہیں آتے۔ پشاور میں گذشتہ رات عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بشیر بلور کے انتخابی جلسے میں خودکش حملے اور پانچ سال قبل کی انتخابی مہم میں غلام احمد بلور کی ریلی کے دوران ہونے والی دہشت گردی میں سو فیصد مماثلت سامنے آئی ہے۔ مئی 2013 کے الیکشن سے چند ہفتے قبل انتخابی مہم کے دوران 16 اپریل 2013 کو عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار غلام احمد بلور کے انتخابی جلسے میں منگل کو رات گئے خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں 15 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں حیرت انگیز مماثلت یہ ہےکہ یہ حملہ بھی پشاور کے یکہ توت کے علاقے میں ہی کیا گیا تھا۔ الیکشن سے محض تین ہفتے قبل منگل ہی کے دن کئے گئے حملے میں خودکش بمبار نے انتخابی جلسے کے دوران غلام احمد بلور کی گاڑی کے قریب پہنچ کر دھماکہ کیا تھا جس میں اگرچہ غلام احمد بلور بال بال بچے اور معمولی زخمی ہوئے تھے جبکہ ان کے ڈرائیور اور علاقے کے ایس ایچ او سمیت 15جاں بحق ہوئے تھے۔پانچ سال قبل کے اس حملے میں بھی گاڑیاں اور دیگر املاک تباہ ہوگئی تھی۔ پانچ سال قبل کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی پے درپے بم حملوں کا نشانہ بنی تھی۔ اب ان انتخابات میں سیاسی پارٹیوں خاص طور پر اے این پی کو شدید سیکورٹی خدشات ہیں مگر پولیس کی جانب سے ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش سامنے نہیں آئی جس کے نتیجے میں پشاور کے عین اسی علاقے ، منگل ہی کے دن، عوامی نیشنل پارٹی ہی کے انتخابی پروگرام، بلور خاندان ہی کے رہنما کو سو فیصد اسی طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں کی منصوبہ بندی ایسی تھی کہ پانچ سال قبل کے دھماکے جتنا ہی جانی نقصان کیا۔ اس حملے میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کی شہادت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی 5 سال قبل کے حملے سے زیادہ 65 ہے۔ شہریوں کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو سیکورٹی خدشات کی بنا پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو اس انتخابات میں بھی ان کے سیکورٹی انتظامات کو سنجیدہ لینا چاہیے تھا۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}