بلال آصف کا خواب اور وہ خوف کی دستک

بلال آصف کا خواب اور وہ خوف کی دستک

October 09, 2018 - 23:00
Posted in:

جب ٹیسٹ کرکٹ اپنا تمام تر طمطراق لیے دبئی کی وکٹ پہ اترتی ہے تو اچانک اس کے حسن کو گہن سا لگنے لگتا ہے۔ صبر کے پیمانے لبریز ہونے لگتے ہیں۔ دھڑکنیں احتیاط کے حصار میں دب جاتی ہیں، اور دل خوف کی دستک کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ دبئی کی وکٹ اپنے مزاج میں ہے ہی کچھ ایسی کہ ایک بے نام سی اذیت بلا توقف چلتے چلے جاتی ہے۔ موسم کچھ ایسا بے رحم سا رہتا ہے کہ دھوپ دل و دماغ کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہاں جیت وہی سکتا ہے جس کا دل بڑا ہو، یا وہ جو قسمت سے جیت سکتا ہو۔ پہلے روز آسٹریلوی بولنگ نے جوئے شیر لانے کی سی کوشش کر ڈالی مگر وکٹ مل کے نہ دی۔ نیتھن لیون اور پیٹر سڈل نے پسینہ عرق کر دیا تب کہیں جا کر تین وکٹیں ہاتھ آ سکیں۔ دوسرے دن وکٹ نے کچھ مروت دکھائی اور قسمت کی خوبی نے پاکستانی بلے بازوں کی رننگ کے ساتھ مل کر کچھ ایسی سازش کی کہ سات وکٹیں دن بھر کی کمائی ٹھہریں۔ تیسری صبح تک یہ ٹیسٹ میچ کسی مہیب الجثہ بحری جہاز کی مانند یکسر سکوت سے کسی گمنام منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک لنچ کا وقفہ آیا اور ڈھائی دن کی تھکاوٹ کے بعد خوف نے دستک دے ڈالی۔ جب خوف پڑاو ڈالنے لگتا ہے تو پھر گویا ایک پتہ جھڑنے کی ہی دیر ہوتی ہے۔ جب کہیں سے وکٹ نہ مل رہی تھی اور گماں ہو رہا تھا کہ ایرون فنچ اور عثمان خواجہ دونوں ہی سینچریاں بنا جائیں گے، تب محمد عباس کی حاضر دماغی اور سرفراز کی پلاننگ نے ممکن بنایا کہ وہ پہلا پتہ جھڑ جائے۔ وہاں سے پھر کٹاؤ کا عمل ایسا شروع ہوا کہ 142 رنز کی پہلی وکٹ پارٹنرشپ بنانے والی ٹیم اگلے 60 رنز کی خاطر نو وکٹیں گنوا بیٹھی۔ اس تباہی میں بنیادی کردار بلال آصف نے نبھایا جو خوف کا حصار کھینچ کر اس طرح سے وکٹ پہ لائے کہ پوری آسٹریلوی بیٹنگ کے اعصاب پہ سوار ہو گئے۔ جو بھی ڈریسنگ روم سے نکل کر آیا، وہ بیٹنگ کرنے نہیں آیا بلکہ بلال آصف سے وکٹ بچانے کا خوف لے کر آیا۔ کرکٹ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ وقت تھم کر ایک پلئیر کی مٹھی میں آ جاتا ہے اور وہ سب کو تگنی کا ناچ نچا دیتا ہے۔ بلال آصف نے یہاں لائن اور لینتھ کو ایسے گھمایا پھرایا کہ دن کا پر اعتماد آغاز کرنے والی ٹیم اچانک چکرا سی گئی۔ عثمان خواجہ ہوں یا ٹریوس ہیڈ، دونوں کا خوف ایک سا ہی تھا کہ کہیں بلال آصف ان کو پویلین واپس نہ بھیج دیں۔ اسی خوف میں وہ ان چاہی شاٹس پیدا ہوئیں جو بادل ناخواستہ کھیلنا ہی پڑتی ہیں۔ جس طرح بلال آصف کریز پہ اضطراب برپا کر رہے تھے، آسٹریلین مڈل آرڈر کے لیے گویا یہی طے شدہ مقدر تھا۔

دوسرے اینڈ سے محمد عباس نے جتنی بھی وکٹیں لیں، ان سب کی تہہ میں گہری پلاننگ جھلکتی نظر آئی۔ ایک ایسی وکٹ جس میں پیسرز کے لیے کوئی زندگی تھی ہی نہیں، وہاں سرفراز کی ذہانت اور عباس کی مہارت کا تال میل ہی ڈوبتی کشتی میں مزید سوراخ کرتا چلا گیا۔ ٹم پین کی قیادت میں یہ آسٹریلوی ٹیم ایک نیا امیج بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو خالصتاً مہارت اور محنت پہ یقین رکھتا ہے۔ پہلے دو دن بظاہر میچ میں بہت پیچھے ہونے کے باوجود پوری ٹیم بہت مستعد اور محنت کرتی نظر آئی۔ تیسرا دن بھی ہرگز مختلف نہ ہوتا کیونکہ سبھی آسٹریلوی بلے باز ذہنی طور پہ سست رفتار اور لمبی اننگز کھیلنے کے لیے تیار تھے۔ اپنے تئیں وہ یاسر شاہ کے حربوں کا بھی توڑ کر کے آئے تھے، مگر شومئی قسمت کہ میدان میں ان کا پالا بلال آصف سے پڑ گیا۔ دبئی میں ٹیسٹ کرکٹ بن بتائے اچانک سے بازی پلٹ دیا کرتی ہے۔ اچانک ایک خوف سا دستک دیتا ہے اور سبھی خواب بکھر جاتے ہیں۔ آج بھی سارے خواب چکنا چور ہو گئے کیونکہ آج کا دن صرف بلال آصف کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اترا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}