بعد از مصباح، بعید از یونس

بعد از مصباح، بعید از یونس

September 27, 2017 - 18:00
Posted in:

جس وقت انضمام الحق کو چیف سلیکٹر بنایا گیا، پاکستان ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹ میں بحران کا شکار تھا۔ انضمام کے آنے کے بعد قومی ٹیم درجہ بدرجہ تشکیل نو سے گزری۔ جس میں سب سے پہلی اور نمایاں تبدیلی اظہر علی کی ون ڈے قیادت سے علیحدگی تھی۔ اظہر علی صرف ون ڈے کے کپتان ہی نہیں، ٹیسٹ کے نائب کپتان بھی تھے۔ لیکن ون ڈے میں وہ خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ان کی زیر قیادت پہلی سیریز میں پاکستان کو تاریخی شکست ہوئی۔ تاریخ میں پہلی بار بنگلہ دیش نے پاکستان کو کلین سویپ کر دیا۔ اس کے بعد ایک دو سیریز بہتر گزریں لیکن پھر انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ٹورز پر شرمناک کارکردگی رہی جس کے بعد اظہر علی کو جانا ہی پڑا۔ لیکن جب اظہر علی نے ون ڈے قیادت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو ساتھ ہی وہ ٹیسٹ کی نائب کپتانی سے بھی مستعفی ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حالات جس طرح اظہر کے خلاف اور سرفراز کے حق میں جا رہے تھے، اس سے دلبرداشتہ ہو کر اظہر علی نے ٹیسٹ کی نائب کپتانی بھی تیاگ دی۔ بلکہ اس کے پیچھے گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے وہ بیانات اور خیالات تھے جو پی سی بی کے تھنک ٹینک کی طرف سے سامنے آئے۔ ’مصباح اور یونس کا خلا آسانی سے پر نہیں ہوگا‘مصباح اور یونس کے بغیر نئی ابتدا، نیا چیلنج’مصباح نے پاکستان کا کیا بگاڑا تھا‘جب ایک طرف پاکستان ٹیسٹ میں چیمپیئن شپ کا میس وصول کر رہا تھا تو دوسری طرف میڈیا میں کچھ ایسے بیانات سامنے آ رہے تھے، جن سے یہ واضح تاثر ملتا تھا کہ پی سی بی اور بالخصوص انضمام الحق یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مصباح و یونس کے دور سے نکل کر جلد از جلد ہمعصر ماڈرن کرکٹ میں داخل ہو جائے۔ ساتھ ہی چئیرمین پی سی بی نے میڈیا پہ اس خواہش کا اظہار بھی کر دیا کہ اظہر علی ون ڈے کی کپتانی ہی نہیں، ٹیم سے بھی کنارہ کش ہو جائیں تو بہتر ہے۔ شاید انہی چند ماہ کے کچھ گھاؤ تھے کہ چند روز قبل ہوئی پی سی بی ایوارڈز کی تقریب میں یونس خان شریک نہیں ہوئے۔ اور اس سے پہلے کہ حسن ظن کی بنیاد پہ یہ سمجھا جاتا کہ یونس ذاتی مصروفیات کے سبب آ نہ سکے، یونس نے خود ہی میڈیا پہ آ کر پی سی بی سے رنجشوں کا اظہار بھی کر ڈالا۔ گو یونس اور پی سی بی کے تعلقات میں دراڑیں تو پچھلے دس سال سے تھیں مگر گزشتہ چند ماہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔ کئی سابق ٹیسٹ کرکٹرز بارہا یہ کہتے پائے گئے کہ اگر یونس اور مصباح ایک ساتھ ریٹائر ہو گئے تو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں قحط الرجال کا شکار ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ مصباح نے بھی کہہ دیا کہ وہ خود تو جا رہے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ یونس ایک آدھ سال اور اس ٹیم کے ساتھ گزاریں۔

سو یونس کرکٹ آسٹریلیا کو ایک انٹرویو میں یہ کہہ بیٹھے کہ وہ ٹیم اور ڈریسنگ روم کی خاطر اپنے پلان پہ نظرثانی کر رہے ہیں۔ بس اس خبر کا آنا تھا کہ میڈیا کے کچھ حلقوں میں ایک طوفان سا برپا ہو گیا جس پہ یونس خان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کافی تلخ انداز میں وضاحت پیش کی۔ اور پھر وہ حسب وعدہ 14 مئی کو ریٹائر ہو گئے۔ لیکن اس سارے فسانے کے بیچ جو بات بار بار عیاں ہوتی رہی، وہ پی سی بی تھنک ٹینک کی وہ فلاسفی تھی جو جلد از جلد یونس و مصباح کے فیز سے نکل کر کچھ نیا کرنا چاہتی تھی۔ بزرگوں کا ساتھ چھوٹتے ہی کشتی ڈولنے نہ لگے!مصباح اور یونس ستارے نہیں، استعارے تھے الوداع مصباح، الوداع یونس یہ ایک الگ بحث ہے کہ یونس اور مصباح کے فیز نے پاکستان کو کتنا فائدہ اور کیا نقصان دیا، مگر یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جن حالات نے سرفراز کو کپتان بنایا، انہی عوامل اور اسی فلاسفی نے پاکستان کو پہلی بار آئی سی سی چیمپیئن بھی بنایا۔ سرفراز کی کپتانی میں پاکستان نے اب تک کوئی سیریز نہیں ہاری ہے۔ اگرچہ وہ ایک نوآموز کپتان تھے اور پاکستان رینکنگ کی آخری سیڑھی پہ کھڑا تھا لیکن انہی کی زیرقیادت یہ ٹیم چیمپیئن بنی۔ ان سے پہلے یہ اعزاز صرف عمران خان، یونس خان اور مصباح الحق کے پاس تھا۔ سرفراز کی یہ خوش نصیبی ہے کہ کپتانی کے ابتدائی دور میں ہی وہ کس قدر سرفرازیاں دیکھ چکے ہیں۔ مگر اب جو مرحلہ درپیش ہے، وہ کلیتہ مختلف ہے۔ کل صبح جب ابوظہبی میں پاکستان سری لنکا کے خلاف میدان میں اترے گا تو آٹھ سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ مصباح اور یونس پاکستان کے ڈریسنگ روم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ کامیاب ترین کپتان اور کامیاب ترین بلے باز کے بغیر پہلا ٹیسٹ کھیلنا پاکستان کے لیے کتنا بڑا نفسیاتی چیلنج ہو گا؟ اس نفسیاتی چیلنج کو کچھ تقویت اس ریکارڈ سے ملتی ہے کہ انضمام کی آمد کے بعد پاکستان نے صرف محدود اوورز ہی نہیں، ٹیسٹ ٹیم میں بھی تجربات کا آغاز کر دیا تھا۔ نجانے یہ انہی تجربات کا ثمر تھا کہ چیمپیئن بننے کے ایک ہی ماہ بعد پاکستان ویسٹ انڈیز سے ایک ایسا میچ ہار گیا جو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ پھر اس کے بعد پاکستان پانچ مزید ٹیسٹ میچز تک فتح کے ذائقے سے محروم رہا۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ نمبر ون بننے کے بعد کوئی ٹیم اتنی جلدی زوال کی راہ پہ چل نکلے۔ شاید اس کی وجہ وہی فلاسفی تھی جس نے پاکستان کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں سرفرازی عطا کی تھی۔ 2015 کے ورلڈ کپ میں پاکستان ساؤتھ افریقہ کے سوا کسی فل ممبر کو ہرا نہیں پایا۔ ہوم کرکٹ نہ ہونے کے سبب کوئی نیا ٹیلنٹ سامنے آ نہیں رہا تھا اور سینیئر پلیئرز ویسے ہی اپنے کریئر کے اختتام کی راہ تک رہے تھے۔ ایسے میں بھلا ہو پی ایس ایل کا کہ جس نے کچھ ایسے نئے چہرے پاکستان کو دیے جن کے سبب پاکستان محدود اوورز کی کرکٹ میں بہت جلد بہتری کی طرف آ گیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہی پی ایس ایل کے ثمرات ٹیسٹ ٹیم کو کچھ زیادہ نہیں دے پائے۔ اور اس بیچ پاکستان کے دو کامیاب ترین ٹیسٹ کرکٹرز بھی ڈریسنگ روم سے رخصت ہو گئے۔ ایسے میں سرفراز کی ٹیم کے لیے کل ایک نیا امتحان شروع ہو گا۔ اگرچہ سری لنکا کی ٹیم بھی کم و بیش انہی مشکلات سے گزر رہی ہے جو سرفراز الیون کو درپیش ہیں لیکن مصباح اور یونس کے بغیر کسی بھی ٹیم کو ٹیسٹ میچ ہرانا پاکستان کے لیے جوئے شیر لانے سے کم نہ ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}