'بطور وزیراعظم ٹرمپ سے ملوں گا لیکن یہ کڑوی گولی ہوگی'

'بطور وزیراعظم ٹرمپ سے ملوں گا لیکن یہ کڑوی گولی ہوگی'

January 14, 2018 - 13:15
Posted in:

اسلام آباد — 
پاکستان میں حزب مخالف کے مقبول سیاسی رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں ملک کا آئندہ وزیر اعظم بننے کا موقع ملا تو وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ضرور ملاقات کریں گے تاہم انہوں نے اسے" کڑوی گولی" نگلنے کے مترادف قرار دیا۔
عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں جو حالیہ سالوں میں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی جو اب ملک کے سیاسی رہنما ہیں، رواں سال ہونے والے عام انتخابات جیت کر ملک کے سربراہ حکومت بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران عمران خان سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے کیا ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ امریکہ بڑی طاقت ہے اور ہر ایک ملک اس کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔
عمران خانے نے کہا کہ "مجھے کچھ اندیشہ تو ہو گا لیکن مجھے ان سے ملاقات کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی۔۔۔۔ کیا ہم گفت و شنید کر سکیں گے، مجھے یہ معلوم نہیں ہے تاہم بلاشبہ (دوسرے) ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔"
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اتنے ہموار نہیں رہے لیکن نئے سال کے آغاز پر ٹرمپ کی ٹویٹ کی وجہ سے یہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے یکم جنوری کی اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ پاکستان ان شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے جو افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لیے 2 ارب ڈالر کی سیکورٹی اعانت بھی معطل کر دی تھی۔
اسلام آباد نے ٹرمپ کے بیان کو مکمل طور پر ناقابل فہم قرار دے کر اسے مسترد کردیا اور کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی جنگ زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑرہا ہے اور اسے امریکی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ " افغانستان کے بحران کا الزام پاکستان پر عائد کر کے آپ 20 کروڑ لوگوں کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔ جیسا کہ انہوں (ٹرمپ ) نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ آداب کے خلاف ہے۔ ۔۔میرا نہیں خیال کہ انہوں نے یہ کوئی معقول بات کی ہے۔"
عمران خان ہمیشہ سے ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ میں پاکستان کے شمولیت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ہفتہ کو انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ یہ جنگ نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے پر القاعدہ کے خلاف شروع کی گئی۔
عمران نے کہا کہ پاکستان کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف امریکی مہم کی حمایت کرنی چاہیے تھی لیکن اسے افغان سرحد سے متصل ملک کے قبائلی علاقوں میں اپنے لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے فوج کو تعینات نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی پالیسی کے وجہ سے ملک میں دہشت گرد حملے ہوئے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں گئیں اور دوسری طرف ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں کو افغانستان میں امریکی فورسز کے خلاف لڑنے والے طالبان عسکریت پسند پناہ گاہوں اور تربیتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ امریکی عہدیدار الزام عائد کرتے ہیں کہ افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائی کی وجہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن وامان کی مخدوش صورت حال ہے۔ پاکستانی عہدیدار ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
اسلام آباد کا موقف ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں امریکہ کی ناکامیوں پر بلا وجہ پاکستان کو ذمہ دار قرار دے کر خطے میں انسداد دہشت گردی کے لیے دی جانے والی پاکستان کی قربانیوں سے انکار کر رہا ہے۔

    VOA بشکریہa {display:none;}