بابری مسجد کے انہدام سے بی جے پی نے کیا کھویا کیا پایا؟

بابری مسجد کے انہدام سے بی جے پی نے کیا کھویا کیا پایا؟

December 06, 2017 - 10:50
Posted in:

پچیس سال قبل آج ہی کے دن یعنی چھ دسمبر سنہ 1992 کو میں نے ہندو قوم پرستوں کے ہاتھوں شمالی انڈیا کے شہر ایودھیا میں ایک تاریخی مسجد کو مسمار ہوتے دیکھا تھا۔ اس مقام کو ہندوؤں کے دیوتا رام کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔یہ ہندو قوم پرست پارٹی بی جے پی کی چھ سالہ مہم کا نتیجہ تھا۔ وہ مسجد کو توڑ کر اس جگہ رام کا مندر تعمیر کرنا چاہتا تھے۔تقریباً 15 ہزار افراد کی بھیڑ اچانک آگے بڑھی گئی اور مسجد کے تحفظ کے لیے تعینات پولیس کے گھیرے کو توڑتے ہوئے مسجد کے گنبد پر حملہ آور ہو گئی اور پل بھر میں مسجد کو مسمار کرنے کا کام شروع ہو گيا۔میں نے دیکھا کہ پولیس کا آخری دائرہ ٹوٹ چکا تھا اور اوپر سے آنے والے پتھروں سے بچنے کے لیے پولیس لکڑی کی ڈھال سے خود کو بچاتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھی۔ایک پولیس افسر پہلے سے ہی دوسرے پولیس اہلکاروں کو دھکا دے کر کنارے کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔پھر میں نے محسوس کیا کہ میں ایک تاریخی واقعے کا گواہ بن گیا۔ اور یہ واقعہ آزادی کے بعد ہندو قوم پرستوں کی اہم جیت اور سیکولرزم کو شدید جھٹکا تھا۔تاریخی موڑ

اگرچہ مودی نے مسلسل اپنے موقف کو ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی ترقی چاہتے ہیں لیکن بی جے پی مرکزی اور ریاستی حکومتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔وزیر اعظم مودی ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پر اہم ریاست اترپردیش سے منتخب کیا گیا لیکن وہ ریاست مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے لیے جانی جاتی ہے۔بہر حال مودی صرف ہندوؤں کے ووٹ کی بنیاد پر انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم کا اہم نعرہ ہندوستان کی ترقی اور تبدیلی تھی۔ان کی کامیابی اس حقیقت پر بھی منحصر تھی کہ کانگریس ایک بار پھر ریشہ دوانیوں کے دور میں پہنچ گئی تھی۔اس بات کے اشارے پہلے بھی مل رہے تھے کہ وہ گائے کے ذبیحے پر نرمی لائيں کیونکہ اس کا کسان ووٹروں پر بہت اثر پڑا ہے۔ہندتوا بہت سے مسلک اور ذات پات والا مذہب ہے اور انڈیا بہت تنوع والا ملک ہے جس کی جڑی متنوع رسم و رواج میں گہری پیوست ہیں۔لہٰذا، میرے پر ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مودی اس تاریخی موڑ تک پہنچ جائیں گے یا وہاں تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں سیکولر انڈیا کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہندو انڈیا معرض وجود میں آ جائے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}