اے ہاؤس فار مسٹر کیجریوال

اے ہاؤس فار مسٹر کیجریوال

June 13, 2018 - 15:37
Posted in:

جن لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ ایل جی اور وزیر اعلی کے درمیان 'کامیونیکیشن گیپ' ہے یا یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، اب ان کی شکایت بھی ختم ہو جائے گی۔اب دونوں ہی دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی حکومت اور ایل جی ایک دوسرے کے اس سے زیادہ قریب نہیں آسکتے۔ مسٹر بیجل کو بھی یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ حکومت نے انھیں فائل بھیجی ہی نہیں ہے کیونکہ دروازہ کھول کر خود اروند کیجریوال انھیں فائل پکڑا دیا کریں گے۔ابھی تک تو مسٹر بیجل نے پلک نہیں جھپکی ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ ہو سکتا ہے کہ مسٹر کیجریوال اور ان کے وزرا کو راج بھون اتنا پسند آجائے کو وہ اپنے بیوی بچوں کو بھی وہیں بلا لیں۔ زندگی میں 'ورک لائف بیلنس' بھی بہت اہم ہے۔بچے باہر لان میں کھیلیں گے اور مسٹر کیجریوال اور مسٹر بیجل مل کر حکومت چلائیں گے۔ دونوں کہیں گے کہ آؤ دونوں بھائی مل کر عوام کے لیے کام کرتے ہیں جیسا کہ جمہوریت میں ہونا چاہیے۔لیکن ابھی شاید وہ وقت آنے میں دیر ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}