ایک گھر، دو امیدوار: سری لنکا پھر سے بحران کی زد میں

ایک گھر، دو امیدوار: سری لنکا پھر سے بحران کی زد میں

November 08, 2018 - 09:38
Posted in:

سری لنکا میں فی الوقت جو سیاسی اٹھا پٹخ جاری ہے وہ 'ہاؤس آف کارڈز' اور 'گیم آف تھرونز' اور شیکسپیئر کے رومن المیے کے درمیان کہیں فٹ آتا ہے۔اس میں ایک ایسا شخص ہے جس نے اپنے رہنما کو دھوکہ دیا اور بعد میں اسے ہی واپس اقتدار میں لایا۔
اس میں قتل کا مبینہ منصوبہ ہے۔
اس میں، دو ایسے افراد ہیں جو سفید بنگلے پر اپنا اپنا دعوی پیش کر رہے ہیں۔ یہ بنگلہ سری لنکا کی سیاسی طاقت کی علامت ہے۔
اس خوبصورت ملک کو کس قسم کا آئینی بحران درپیش ہے؟ اس سوال کے بہت سے جوابات ہیں۔ ان میں سے کچھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:بحران کیسے پیدا ہوا؟اس کا جواب بہت الجھا ہوا ہے کیونکہ اس کہانی میں بہت سے موڑ اور پیچ و خم ہیں۔گذشتہ ہفتے سری لنکا کے صدر میتری پال سیریسینا نے وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے کو عہدے سے ہٹا کر ملک کو چونکا دیا۔ سریسینا نے کابینہ اور پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دیا۔مزید ڈرامہ اس وقت سامنے آیا جب سریسینا نے مہندا راجا پاکسے کو وزیراعظم کے عہدے پر مقرر کر دیا، وہی راجا پاکسے جنھیں انھوں نے سنہ 2015 کے صدارتی انتخاب میں شکست دی تھی۔

سری لنکا کیوں اہم ہے؟سری لنکا ایک ایسا ملک ہے جو دہائیوں تک خانہ جنگی اور خونریز جنگ سے نبرد آزما رہا ہے۔ سری لنکا ایک ایسا ملک ہے جو حکومت اور علیحدگی پسند تمل ٹائگرز کے درمیان پستا رہا ہے۔ یہ پر تشدد دور ختم ہو چکا ہے لیکن طرفین پر انسانی حقوق کی بے انتہا خلاف ورزیوں اور مظالم کے الزامات لگے ہیں۔اُس وقت سری لنکا کی حکومت راجپکشے کے ہاتھوں میں تھی جب ہزاروں ہزار شہریوں کے بہیمانہ قتل کا الزام ان پر عائد کیا گیا تھا اور فوج نے اس سے انکار کرتی رہی ہے۔جنگ کی تباہی کے بعد یہ ملک ایک بار پھر سیاحوں کا مرکز بنا اور بہت حد تک اس نے اپنا کھویا مقام حاصل کر لیا۔ لیکن موجودہ صورت حال سے سری لنکا کی شبیہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔یورپی یونین نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سری لنکا نے اقلیت تمل برادری کے حقوق کی حفاظت کے اپنے وعدوں سے منھ موڑتا ہے تو اس کے لیے فری ٹریڈ کے راستے بند ہو جائيں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}