ایک اور ’اگر‘٬ ایک اور ’شاید‘

ایک اور ’اگر‘٬ ایک اور ’شاید‘

January 13, 2018 - 14:22
Posted in:

پہلے پچاس اوورز تک میچ پاکستان کے ہاتھ میں تھا۔ تمام بولرز نے ان تھک مہارت اور کمال درستی کا مظاہرہ کیا، اور نیوزی لینڈ کو ایک ایک رن کے لیے مشقت پہ مجبور کیا۔ فیلڈ میں اکا دکا کوتاہیاں ضرور ہوئیں مگر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ کافی عرصے بعد ایسا ہوا کہ ان وکٹوں پہ پاکستان کے سبھی بولرز کی اکانومی چھ سے کم رہی۔شاداب خان نے اپنی ہی گیند پہ تقریباً ناممکن کیچ پکڑ کر جس نفسیاتی کٹاؤ کا آغاز کیا، اس کے بعد نیوزی لینڈ کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ کوئی اعصاب شکن مجموعہ بورڈ پہ سجاتے۔ رومان رئیس اور حسن علی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ محمد عامر نے بھی آج صحیح معنوں میں سینیئر ہونے کا ثبوت دیا۔’جب پاکستانی بیٹنگ پہ احتیاط طاری ہوئی‘پجارا کو ایسی کیا خوش فہمی تھی؟سرفراز نے کپتانی میں بہت تحمل اور صبر دکھایا۔ ان کی پلاننگ میں واقعی وہ کاٹ نظر آئی جو ایک اٹیکنگ کپتان کے فیصلوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اہم مواقع پہ بولنگ میں تبدیلیاں کیں۔ چھوٹے چھوٹے سپیل ڈلوائے۔ کسی بھی بولر پہ نفسیاتی یا جسمانی دباؤ نہیں پڑنے دیا جبکہ فہیم اشرف سے اٹیک کروا کے تو کمال ہی کر ڈالا۔اور یوں جب پچاس اوورز مکمل ہوئے تو گراؤنڈ سے پلٹنے والی فیلڈنگ سائیڈ کے چہرے پہ سکون تھا۔ کپتان بھی مطمئن تھے۔ کیونکہ کنڈیشنز کے اعتبار سے یہ بلاشبہ پاکستانی بولرز کی گذشتہ چند سال میں بہترین پرفارمنس تھی۔ پاکستان کے لیے یہ ہدف کسی بھی اعتبار سے ناقابل تسخیر نہیں تھا۔ مشکل ضرور تھا مگر ایسا بھی مشکل نہیں کہ بیٹنگ خزاں کے زرد پتوں سی بے کیف اور بکھری بکھری نظر آئے۔اس سیریز کے پہلے دو میچز کا نتیجہ بارش سے متاثرہ تھا۔ شائقین کرکٹ کے لیے ایسی بارشیں بڑی تکلیف دہ ہوتی ہیں جو کھیل کے خاصے اوورز کھا جاتی ہیں اور بالعموم اچھے بھلے متوازن مقابلے کا پانسہ اچانک سے پلٹ دیتی ہیں۔ لیکن کم از کم آج کی حد تک یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی شائقین نے بارش کا بہت انتظار کیا۔جب اظہر علی ایک موقع ملنے کے بعد بھی آف سٹمپ کے باہر فلرٹ کرتے پائے گئے۔ جب حفیظ ایک بار پھر بے ثمر ثابت ہوئے۔ جب بابر اعظم کا بلا پچ میں پھنس گیا۔ جب رومان رئیس ٹاپ سکورر نظر آئے۔ جب ملک ایک بار پھر ناکام ہوئے۔ جب سرفراز تہی دامن سے کھڑے دوسرے اینڈ پہ پت جھڑ دیکھتے رہ گئے۔ تب تب پاکستان کے مداحوں نے بارش کا بہت انتظار کیا۔یوں تو جیسا موسم آج ڈونیڈن کے نواح میں طاری تھا، عین ممکن تھا کہ کچھ دیر بعد بارش ہو بھی جاتی۔ لیکن بھلا ہو پاکستانی بیٹنگ کا، جو ’کچھ دیر‘ بھی نہ نکال پائی۔ ایسے میں بارش سے کیا فرق پڑ جاتا؟ یقیناً نتیجے میں کوئی فرق نہ پڑتا، ہاں ہزیمت کی مقدار میں کچھ فرق ضرور پڑ جاتا۔ شاید آل آؤٹ ہوئے بغیر ہی ڈک ورتھ لوئیس کا فیصلہ سنا دیا جاتا۔ اور مداح اس تسلی میں ہی رہتے کہ سکور تو کچھ بھی نہیں تھا، بس بارش نے کام خراب کر دیا۔اس سیریز کے پہلے دونوں میچوں کی نسبت یہ وکٹ آسان تھی۔ اس میں کوئی تیکھی سوئنگ نہیں تھی۔ باؤنس بھی کم تھا۔ گیند بلے پہ ٹھیک سے نہیں آ رہا تھا۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فہیم اشرف نے اننگز کے آغاز میں ہی منرو کو چلتا کیا۔ لیکن پھر ولیمسن آئے اور وقت رک سا گیا۔ رن ریٹ ایڑیوں کے بل رینگنے لگا۔ ولیمسن نے وکٹ اور اس باؤنس کے اعتبار سے پاکستانی بولنگ کی کاٹ کو بھانپا اور فوراً اننگز کی رفتار سست سے سست تر کر دی۔ مقصد صرف لمبی پارٹنرشپ لگانا تھا۔ اور اس کی خاطر وہ اتنا سست کھیلے کہ ایک مقام آیا، جب رن ریٹ ان کے اعصاب پہ سوار ہونے لگا اور وہ گپٹل کے رن آؤٹ کا سبب بن گئے۔لیکن اس نقصان سے قطع نظر ولیمسن اور ان کے ساتھی پارٹنرشپس لگاتے رہے۔ پاکستان بھی جب بیٹنگ کے لیے آیا تو رن ریٹ پیٹ کے بل ہی گھسٹ رہا تھا، لیکن پتے بھی مسلسل بکھر رہے تھے۔ سست رن ریٹ کے ساتھ تیز وکٹوں کا گرنا کچھ سودمند ثابت نہ ہوا۔ اور اسی ہڑبڑاہٹ میں پاکستانی بلے باز یہ سمجھنے سے قاصر رہ گئے کہ گیند پرانا ہونے کے ساتھ ساتھ وکٹ بھی مزید سست ہوتی جائے گی اور بیٹنگ بھی آسان تر۔ اگر پاکستان نے گیند کو پرانا ہونے اور وکٹ کو مزید سست ہونے کا موقع دیا ہوتا تو شاید یہ سیریز ابھی تک زندہ ہوتی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}