ایشیا کپ: انڈیا کو شارجہ میں کھیلنے سے کیا مسئلہ ہے؟

ایشیا کپ: انڈیا کو شارجہ میں کھیلنے سے کیا مسئلہ ہے؟

September 14, 2018 - 10:42
Posted in:

ایشین کرکٹ کونسل کی داغ بیل سنہ 1983 شارجہ میں ڈالی گئی تھی اور اس کے قیام کے اگلے سال اپریل سنہ 1984 میں شارجہ ہی نے پہلے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کی تھی جس میں تین ٹیمیں پاکستان، انڈیا اور سری لنکا شریک تھیں۔یہ سہہ فریقی ٹورنامنٹ انڈیا جیتا تھا۔سنہ 1995 میں شارجہ ایک بار پھر ایشیا کپ کا میزبان بنا اور چار ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں انڈیا چیمپیئن بنا تھا۔ ایشیا کپ اب تیسری مرتبہ متحدہ عرب امارات میں واپس آیا ہے۔ اگرچہ اس مرتبہ چھ ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ کے 13 میچوں کے لیے دو میدانوں کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن ان میں شارجہ شامل نہیں ہے۔یہ بھی پڑھیےوراٹ کوہلی کے بغیر ایشیا کپ کا رنگ پھیکا30 سال بعد: 'میانداد کا وہ چھکا آج بھی پریشان کرتا ہے'شارجہ میں ایشیا کپ کے میچ نہ ہونے کی بظاہر وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہاں پہلی افغان پریمیئر لیگ ہونے والی ہے حالانکہ اس افغان پریمیئر لیگ کا آغاز پانچ اکتوبر کو ہو گا جبکہ ایشیا کپ 28 ستمبر کو ختم ہو چکا ہو گا۔شارجہ میں ایشیا کپ کا ایک بھی میچ نہ ہونے کا ایک اہم سبب انڈین کرکٹ بورڈ ہے جو دراصل اس ایشیا کپ کا میزبان ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جب سے متحدہ عرب امارات کو اپنی ہوم سیریز کا مرکز بنایا ہوا ہے شارجہ اس میں پیش پیش رہا ہے تاہم اس سال افغان پریمیئر لیگ اور ٹی 10 لیگ کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی سیریز کا کوئی بھی میچ شارجہ میں نہیں رکھا گیا ہے۔ایشیا کپ کے سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسے دو میدانوں میں کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس ضمن میں دبئی اور ابو ظہبی کا انتخاب کیا گیا لیکن کرکٹ شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کے ضمن میں شارجہ ہمیشہ ان دونوں میدانوں سے بازی لے جاتا ہوا نظر آیا خاص کر پاکستان سپر لیگ کے دوران شارجہ کرکٹ سٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا رہا تھا۔ایشیا کپ میں افغانستان کی ٹیم بھی شریک ہے جسے شارجہ میں شائقین کے جوش و خروش کا بخوبی اندازہ ہے۔ افغانستان کی ٹیم نے جب بھی شارجہ سٹیڈیم میں میچ کھیلے اسے تماشائیوں کی زبردست حمایت حاصل رہی۔ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کافی عرصے تک افغانستان کی ٹیم کا اختیاری ہوم گراؤنڈ بھی رہا ہے۔ اس تناظر میں اگر افغانستان کی ٹیم کا ہی ایک میچ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں رکھ دیا جاتا تو شائقین کی ایک بڑی تعداد اس سے لطف اندوز ہو سکتی تھی جنھیں اب ابوظہبی جانا ہو گا جہاں افغانستان کی ٹیم کے دونوں گروپ میچ رکھے گئے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}