ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی ’ایکشن ٹیم‘ کا اعلان

ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی ’ایکشن ٹیم‘ کا اعلان

August 17, 2018 - 04:18
Posted in:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ایک نئی اور اعلیٰ سطحی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس کا نام ’ایران ایکشن گروپ‘ رکھا گیا ہے۔ایران ایکشن گروپ تہران کے رویے کو تبدیل کرنے اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک پر پابندیاں لگانے کے لیے واشنگٹن کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی حکمت عملی پر کام کرے گا۔اس گروپ کی قیادت برائن ہُک ایران کے لیے محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندہ کے حیثیت سے کریں گے۔ایران پر پابندی سے انڈیا کو خام تیل کی قلت کا خطرہ’دھمکیوں اور توجہ حاصل کرنے کا حربہ نہیں چلے گا‘مائیک پومپیو کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’تقریباً 40 سال سے تہران کی حکومت امریکہ، ہمارے اتحادیوں، ہمارے شراکت دارو اور ایرانی عوام کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور غیرمستحکم کرنے والے رویے کی ذمہ دار ہے۔‘خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ایک دن ہم ایران کے ساتھ نیا معاہدے کریں گے، لیکن ہم ایرانی حکومت کے رویے میں اندرونی اور بیرونی طور پر بڑی تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘امریکہ جو تبدیلیاں ایران میں دیکھنا چاہتا ہے اس کی ایک طویل فہرست ہے جن میں شامی حکومت اور حزب اللہ کی حمایت بند کرنا، جوہری پروگرام کی بندش اور قید امریکیوں کی رہائی شامل ہے۔ برائن ہک کا کہنا ہے کہ ’یہ ٹیم ایرانی رویے کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوط عالمی کوشش پر کاربند ہے۔‘انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مطابقت چاہتے ہیں۔‘برائن ہک نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ممالک کو ساتھ ملانے کے لیے کوشش بڑھا رہا ہے۔ اس اقتصادی دباؤ میں ایران کی تیل کی تجارت کا کریک ڈاؤن، فنانشل سیکٹر اور شپنگ کی صنعت شامل ہے۔’ہمارا مقصد ہر ملک میں ایرانی تیل کی درآمد کو کم کر کے چار نومبر تک صفر پر لانا ہے۔‘خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتپ کاروبار کرنے والے ممالک کو خبردار کیا تھا۔اس سے قبل ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ نہ تو جنگ ہوگی اور نہ ہی مذاکرات۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}