ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کو برطانیہ کا چیلنج

ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کو برطانیہ کا چیلنج

January 11, 2018 - 21:05
Posted in:

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے موجودہ معاہدے سے بہتر متبادل لا کر دکھائے۔برسلز میں ایران اور یورپی اتحاد کے اپنے ہم عصروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد انھوں نے کہا کہ 2015 میں ہونے والا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔انھوں نے کہا کہ ایران اس پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔مزید پڑھیئےامریکہ، ایران تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور؟ امریکہ ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت پر مجبورامریکہ کا ایران پر خطرناک اشتعال انگیزی کا الزامامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ معاہدے میں یا تو ترمیم کی جائے یا پھر اس سے دستبردار ہو جایا جائے۔اکتوبر میں انھوں نے کانگریس کے لیے اس بات کی از سرِ نو تصدیق کرنے سے انکار دیا تھا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ تہران معاہدے کی ’روح کے مطابق نہیں چل رہا۔‘توقع ہے کہ وہ جمعہ کو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا سابق صدر براک اوباما کی طرف سے ایران پر لگائی گئی امریکی اقتصادی پابندیوں میں نرمی جاری رکھیں یا نہیں۔

اقتصادی پابندیوں نے ایران کے مرکزی بینک کو بین الاقوامی اقتصادی نظام سے الگ کر دیا تھا اور دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے ایران سے تیل خریدنے پر جرمانے لگائے گئے تھے جس کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہ ہو رہی تھی۔جمعرات کو ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریفی سے ملنے کے بعد یورپی اتحاد، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کو دہرایا، جس کے طے پانے میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگھرینی کہتی ہیں کہ ’معاہدے پر عمل ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کنٹرول میں ہے اور اس کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’جس معاہدے پر عمل ہو رہا ہے، جو دنیا کو محفوظ بنا رہا ہے اور جو خطے میں ممکنہ جوہری اسلحے کی دوڑ کو روک رہا ہے اس کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری کا اتحاد ضروری ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}