ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

November 18, 2017 - 20:16
Posted in:

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال میں اس کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟سعودی عرب اور ایران مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے ملک ہیں اور دونوں اس خطے پر اپنی اپنی بالادستی چاہتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان کھنچاؤ کی ایک بڑی وجہ مذہب ہے۔ ایرانیوں کی بڑی اکثریت شیعہ ہے جب کہ سعودی عرب سنی اکثریت کا ملک ہے۔ حزب اللہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیلاپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہایران کی سعودی عرب کو تنبیہ،’پہلے اپنے مسائل حل کریں‘یہی شیعہ سنی تفریق مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ بعض ملک اکثریتی سنی اور بعض اکثریتی شیعہ ہیں۔ شیعہ اکثریت والے ملک تعاون کے لیے ایران کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ سنی ملک سعودی عرب کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اصل تنازع ہے کیا؟اسلام کا آغاز سعودی عرب سے ہوا تھا۔ اس لیے وہ آج بھی خود کو مسلم دنیا کا رہنما سمجھتا ہے۔ تاہم 1979 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں ایک نئی طرز کی مذہبی ریاست وجود میں آ گئی، جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ اپنا ماڈل اپنی سرحدوں سے باہر برآمد کیا جائے۔ اس ریاست نے سعودی عرب کی حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ حالات اچانک اس نہج تک کیسے پہنچ گئے؟گذشتہ 15 برس میں اوپر تلے پیش آنے والے کئی واقعات نے دونوں کے درمیان تلخی میں اضافہ کیا ہے۔ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے سنی عرب اور ایران کے دشمن صدام حسین کو معزول کر دیا۔ اس سے علاقے میں طاقت کا پلڑا ایران کی طرف جھک گیا کیوں کہ عراق میں اقتدار اب شیعہ اکثریت کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ 2011 میں 'عرب سپرنگ' کے تحت اس خطے میں خاصی ہلچل پیدا ہوئی اور کئی ملک عدم استحکام کا شکار ہو گئے۔ سعودی عرب اور ایران نے اس غیر یقینی صورتِ حال کو اپنا دائرۂ اثر بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ شام، بحرین اور یمن خاص طور پر اس رسّہ کشی کا شکار ہوئے، اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔ ایران کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے آلۂ کار نصب کر کے ایران سے بحیرۂ روم تک کے علاقے پر اپنا غلبہ چاہتا ہے۔ اس مقصد میں ایران کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ شام میں ایرانی (اور روسی) پشت پناہی کی بدولت صدر بشار الاسد باغیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب ان باغیوں کا سب سے بڑا حامی تھا۔ سعودی عرب بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ روکنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، اور اس کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ انھی نے سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے تاکہ وہاں ایرانی اثر ختم کیا جا سکے۔ لیکن تین برس سے جاری یہ جنگ اب تک ایک مہنگا جوا ثابت ہوئی ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودیوں نے لبنان کے وزیرِ اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تاکہ لبنان کو کمزور کیا جا سکے جہاں ایران کی اتحادی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا غلبہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بیرونی طاقتیں بھی سرگرم ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو شہ دے رکھی ہے، جب کہ اسرائیل بھی ایران کو اپنا دائمی دشمن سمجھتے ہوئے ایک لحاظ سے سعودی عرب کی بالواسطہ 'مدد' کر رہا ہے۔

امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے لیے خلیجِ فارس میں نقل و حمل کی آزادی بہت اہم ہے اور اگر یہاں جنگ چھڑ گئی تو تیل کی صنعت کے لیے بےحد اہم یہ بحری گزرگاہ بند ہو جائے گی۔ اس سے امریکہ بھی جنگ میں کود سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک عرصے سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر تلا ہوا ہے۔سعودی قیادت ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور ولی عہد اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کی نئی مہم جوئی اس خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}