ایرانی پاسداران انقلاب دراصل کون ہیں؟

ایرانی پاسداران انقلاب دراصل کون ہیں؟

January 02, 2018 - 13:28
Posted in:

لیکن صورتحال کے سنگین رخ اختیار کرنے پر اس سے نمٹنے کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کو دی جاتی ہے۔ایران میں گذشتہ چند روز سے جس سطح پر حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور دارالحکومت تہران میں بھی نعرے بازی جاری ہے۔ اگر صورت حال مزید خراب ہوتی ہے تو ایرانی حکومت پاسدارانِ انقلاب کو مظاہرین سے نمٹنے کا ذمہ دے سکتی ہے۔یہ بھی پڑھیےایران: حکومت مخالف مظاہرے، پولیس سٹیشن پر قبضے کی کوشش’ٹرمپ نے دنیا کو امریکہ کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے‘اس سے قبل بھی ایران میں صدارتی انتخابات کے نتائج پر مظاہرے ہوئے تھے سنہ 2009 میں یہ مظاہرے 12 جون کو شروع ہوئے اور وقت کے ساتھ وسیع ہوتے گئے ایسے میں حکومت نے پاسدارانِ انقلاب کو 25 جون کو تعینات کیا اور انھوں نے دو ماہ (25 اگست) تک یہ ذمہ داری نبھائی۔پاسدارانِ انقلاب کتنے طاقتور ہیں؟

سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد ملک میں پاسدارانِ انقلاب کا قیام عمل میں آیا اور یہ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خمینی کا فیصلہ تھا۔پاسدارانِ انقلاب کے قیام کا مقصد نئی حکومت کی حفاظت اور فوج کے ساتھ اقتدار کا توازن برقرار رکھنا تھا۔ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد جو نئی حکومت اقتدار میں آئی اس نے محسوس کیا کہ انھیں ایسی فوج کی ضرورت ہے جو نظام اور انقلاب کے مقاصد کی حفاظت کر سکے۔یہ بھی پڑھیے٭ ’پاسدارانِ انقلاب پر پابندی کا منہ توڑ جواب دیں گے‘٭ ’سعودیہ نے پاسداران انقلاب کے اہلکار نہیں ماہی گیر پکڑے ہیں‘ایرانی علماء نے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا جس میں باقاعدہ فوج کو ملک کی سرحد اور اندرونی سلامتی کا ذمہ دیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب کو نظام کی حفاظت کا کام دیا گیا۔نظم و نسق میں تعاون

لیکن در حقیقت دونوں افواج ایک دوسرے کی راہ میں آتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر پاسدارانِ انقلاب قانون کے نفاذ میں تعاون کرتی ہے اور فوجی، بحریہ اور فضائیہ کو اس کا تعاون حاصل رہتا ہے۔وقت کے ساتھ پاسدارانِ انقلاب کا ایران کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں میں کردار بڑھ گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے موجودہ کمانڈر ان چیف، محمد علی جعفری نے ہر کام کو بخوبی انجام دیا ہے جو انھیں ایران کے سربراہ اعلیٰ نے انھیں سونپا ہے۔یہ بھی پڑھیے٭ ’تہران میں حملوں کے ذمہ دار سعودی عرب اور امریکہ ہیں‘٭ ’جوہری معاہدے کے خلاف اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے‘محمد علی جعفری کا کہنا ہے کہ نیم فوجی دستے 'رضاکار بسیج فورس' کے پاسدارانِ انقلاب میں انضمام کے بعد سپریم لیڈر کے حکم پر پاسدارانِ انقلاب کی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔'اب ہمارا کام گھر میں موجود دشمنوں کے خطرات سے نمٹنا اور بیرونی چیلنجز کے خلاف جنگ میں فوج کی مدد کرنا ہے۔‘بسیج فورس

ایک اندازے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب میں فی الحال سوا لاکھ فوجی ہیں۔ ان میں زمین پر جنگ کرنے والے فوجی، بحریہ اور فضائیہ کے دستے ہیں اور ایران کے عسکری ہتھیاروں کی حفاظت ان ہی کے ذمے ہے۔اس کے ماتحت بسیج ایک رضاکار فورس ہے جس میں تقریباً 90 ہزار مرد اور خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بسیج بہ وقت ضرورت دس لاکھ رضاکاروں کو جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بسیج کا پہلا کام اندرون ملک حکومت مخالف سرگرمیوں سے نمٹنا ہے۔سنہ 2009 میں جب احمدی نژاد کی صدارتی انتخاب جیتنے کی خبر آئی تو سڑکوں پر مخالفت شروع ہو گئی۔ بسیج نے دوسرے امیدوار حسن موسوی کے حامیوں کو دبانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی۔بسیج فورس قانون کے نفاذ کے لیے بھی کام کرتی ہے۔قدس فورس

یہ پاسدارانِ انقلاب کی سپیشل فورس ہے۔ قدس فورس غیر ملکی سر زمین پر حساس مشن کو انجام دیتی ہے۔ حزب اللہ کی مسلح افواج اور عراق کے شیعہ جنگجوؤں اور ایرانی کے ہمنوا مسلح گروہ کو اسلحے اور تربیت فراہم کرنے کا کام بھی قدس فورس کا ہے۔قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمان کو ایران کے رہنما علی خامنے ای 'امر شہید' کا خطاب دیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمان نے یمن سے لے کر شام تک اور عراق سے لے کر دوسرے ممالک میں تعلقات کا ایک مضبوط نیٹ ورک تیار کیا ہے تاکہ ان ممالک میں ایران کے اثر و رسوخ بڑھائے جا سکیں۔اگر شام میں شیعہ جنگجوؤں نے محاذ کھول رکھا ہے اور تو وہ عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف برسر پیکار ہیں۔زبردست اثر

پاسدارانِ انقلاب کی کمان ایران کے سپریم لیڈر کے ہاتھوں میں ہے۔ سپریم لیڈر ملک کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔ وہ ان افواج کے اعلی عہدوں پر اپنے پرانے سیاسی اتحادیوں کو تعینات کرتے ہیں تاکہ پاسدارانِ انقلاب پر ان کی پکڑ مضبوط رہے۔یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایک تہائی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے مخیر اداروں اور کمپنیوں پر ان کا کنٹرول ہے۔ایرانی آئل کارپوریشن اور امام رضا کی امام بارگاہ کے بعد پاسدارانِ انقلاب ملک کا تیسرا امیر ترین ادارہ ہے۔ اسی کے بل بوتے پر پاسدارانِ انقلاب میں نوجوانوں کی اچھی تنخواہ پر تقرری ہوتی ہے۔بیرونی کردار

اگرچہ پاسدارانِ انقلاب میں فوجیوں کی تعداد باقاعدہ افواج سے زیادہ نہیں ہے لیکن ایران میں اسے طاقتور ترین فوج کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ملک میں بلکہ ملک کے باہر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔شام میں لڑائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے کئی کمانڈر ہلاک ہوئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں قائم ایرانی سفارت خانوں میں پاسدارانِ انقلاب کے نوجوان خفیہ کام انجام دینے کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دوسرے ملکوں میں ایران کے حامی مسلح گروپس کو اسلحے اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}