اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر قائم ہیں: امریکی محکمۂ دفاع

اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر قائم ہیں: امریکی محکمۂ دفاع

June 13, 2018 - 09:42
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ نما کوریا میں فوجی مشقیں منسوخ کرنے کے بعد پینٹاگون نے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے منگل کے روز ایک تاریخی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر امریکی فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اقدام کو شمالی کوریا کی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے جبکہ امریکی اتحادیوں کے لیے یہ بیان حیران کن ہے۔مذاکرات کے بعد منظرِ عام پر آنے والے کم جونگ اُن کے پہلے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ اقدامات کو فوری روکنا ہوگا۔ اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیےسنگاپور میں ٹرمپ اور کم ملاقات: کب کیا ہوا؟ٹرمپ کِم ملاقات: چین تیار بیٹھا ہےدوسری جانب شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کم جونگ نے امریکی صدر کی واشنگٹن آنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ نے کم جونگ نے صدر ٹرمپ کو ’مناسب وقت‘ پر پیانگ یانگ مدعو کیا ہے اور صدر ٹرمپ نے بھی کم جونگ کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی دعوت قبول کر لی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ان کی بات چیت ’ایماندارانہ، لگی لپٹی رکھے بغیر اور تعمیری‘ رہی ہے۔ سنگاپور میں منگل کو اس تاریخی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی ’وار گیمز‘ روک دے گا جبکہ کم جونگ ان نے ایک میزائل تجربے کی سائٹ تباہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔کیا پینٹاگون کو معلوم تھا؟ٹرمپ کم ملاقات سے ایک روز قبل امریکہ کے سیکریٹری دفاع جم میٹس نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ اُن کے خیال میں فوجیوں پر بات چیت ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس پر بات چیت کے بارے میں انھیں معلوم ہے تو انھوں نے کہا کہ ’جی، میں جانتا ہوں۔‘اگرچہ پینٹاگون نے جم میٹس کے بیان کو مسترد کیا ہے۔ پنٹاگون کے ترجمان ڈانا وائٹ کا کہنا ہے کہ اُن سے پہلے مشورہ کیا گیا تھا۔بی بی سی کو دیے گئے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور ہم نے انھیں خطے میں امن و استحکام کی یقین دہائی کروائی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}