انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

December 05, 2017 - 12:39
Posted in:

یہ بھی پڑھیں٭ جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوؤں کا دعوی ہے کہ یہ مسجد ہندوؤں کے دیوتا بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔ لیکن اب تنازع یہ ہے کہ یہ زمین اصل میں کس کی ہے۔سنہ 1980 کے عشرے میں بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک شروع کی گئی تھی جو سنہ 1992 میں پانچ سو برس پرانی بابری مسجد کے انہدام پر ختم ہوئی۔انہدام کے بعد مسجد کے مقام پر ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت سے کسی اضافی تعمیر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مندر کی تعمیر کے لیے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔

اگر قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مقدمہ صرف زمین کے تنازعے کا ہے۔ عدالتیں ملیکت کے تعین کے لیے صرف ماضی کی دستاویزات اور مقامی محکمہ موصولات کے ریکارڈ دیکھتی ہیں۔ لیکن قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ زمین کے اس تنازعے کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں مذہبی عقائد سے بھی ہے اور اس سے مذہبی قوم پرستی کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔یہ بھی پڑھیں٭ ایودھیا کا تنازع زندہ کرنے کا الزام٭ ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘بی جے پی، آر ایس ایس اور اس سے وابستہ ہندو تنظمیں یہ امید کر رہی ہیں کہ سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔اتر پردیش اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی اپنی اکثریت سے اقتدار میں ہے۔ بی جے پی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ناموافق یا ہائی کورٹ جیسا رہا تو پارلیمنٹ میں ایک قانون بنا کر مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ' مندر وہیں بنے گا اور جلد بنے گا۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}