انڈین روپے کی قدر میں کمی کو روکا جاسکتا ہے؟

انڈین روپے کی قدر میں کمی کو روکا جاسکتا ہے؟

September 14, 2018 - 03:51
Posted in:

انڈین روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمت میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انڈیا کے سینٹرل بینک پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ روپے کی گرتی قیمت کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ اپریل کے آغاز میں ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر 65.1 روپے تھی۔ 11 ستمبر کو اس کی قدر گر کر 72.7 روپے ہو گئی۔ چھ ماہ سے کم عرصے میں انڈین روپیہ 11 فیصد گرا ہے۔ انڈین روپیہ کیوں گر رہا ہے؟ ایک بڑی وجہ تیل ہے۔ انڈیا میں استعمال ہونے والے تیل کا 80 فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔ تیل کی درآمد اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے خسارے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔گذشتہ سال تیل کی درآمدات 18.8 بلین ڈالر تھی جو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی درآمد 28.9 بلین ڈالر تھی۔ درآمدات کی قیمت میں اضافے کا مطلب ہے کہ تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کی ڈالر کی طلب۔ ایک طرف تیل کمپنیاں اور دوسری جانب ڈالر کی طلب میں اضافہ ملک سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی روانگی کے باعث بھی ہوا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈیا کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ 2008 میں مالی بحران کے بعد مغربی دنیا میں رقم کافی تھی۔ سرمایہ کاروں نے کم سود پر رقم لی اور انڈیا اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکٹس میں سرمایہ کاری کر دی۔ اب جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہے انڈیا سے سرمایہ کاری نکل رہی ہے۔ ڈالر کی طلبشرح سود میں اضافے کے ساتھ ساتھ ارجنٹینا اور ترکی میں بحران نے بھی انڈین روپے کی قدر میں فرق ڈالا ہے۔ سال کی دوسری سہ ماہی میں سرمایہ کاروں نے 8.1 بلین ڈالر انڈیا کی مارکیٹ سے نکالے۔ گذشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں 12.5 بلین ڈالر انڈیا میں آئی تھی۔ جب یہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری نکالتے ہیں تو ان کو روپے ملتے ہیں اور پھر وہ ڈالر خریدتے ہیںجس کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ کی مداخلتمختصراً جو ڈالر انڈیا سے باہر جا رہے ہیں وہ ملک میں آنے والے ڈالر سے زیادہ ہیں اور اس وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے ڈالر بیچے اور روپے خریدے۔ اگست میں آر بی آئی کے ذر مبادلہ کے ذخائر 400 بلین ڈالر تھے جبکہ صرف چار ماہ قبل یہ ذخائر 424 بلین ڈالر تھے۔ پس یہ ہوا کہ آر بی آئی کے مداخلت کے باوجود روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ 1997 کے ایشیا کے مالی بحران سے جو ایک سبق سیکھا گیا وہ یہ تھا کہ کسی بھی ملک کے سینٹرل بینک کے لیے یہ بہت خراب آپشن ہے کہ اپنی کرنسی کی قدر کو ہر قیمت پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرے۔ انڈیا کے پاس 400 بلین ڈالر ہیں لیکن ان کی سمجھداری سے استعمال کرنا ہو گا۔ دراصل 2013 میں انڈین روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کو روکنے کے لیے آر بی آئی نے مداخلت کی کوشش کی۔ اس نے شرح سود میں اضافے سے لے کر بیرون ملک رہنے والے انڈینز کے لیے بانڈ کے اجرا کی بات کی لیکن اس کے ان اقدامات کو بوکھلاہٹ کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے باعث انڈین روپے پر مزید دباؤ پڑا۔ لیکن اس کے باوجود حکومت آڑ بی آئی پر دباؤ ڈالے گی کہ روپے کی قدر کو گرنے سے روکے۔ نریندر مودی نے 2014 کے الیکشن میں روپے کی گرتی قدر کے حوالے سے اس وقت کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اب وہ اپوزیشن کی جانب سے اسی بات پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ روپے کی قدر میں مزید کمی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور اس سے انڈیا کا متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}