انڈیا کے فوٹو سٹوڈیوز کی تصاویر کو ’زندہ‘ رکھنے کا منصوبہ

انڈیا کے فوٹو سٹوڈیوز کی تصاویر کو ’زندہ‘ رکھنے کا منصوبہ

December 04, 2017 - 17:56
Posted in:

ایک زمانہ تھا جب کوئی تقریب فوٹوگرافر کے بغیر شروع نہیں ہوتی تھی۔ انڈیا کے جنوبی شہر چنائی کے 78 سالہ فوٹوگرافر بالاچندرا راجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب تقریب کے منتظمین اس وقت تک تقریب کا آغاز نہیں کرتے تھے جب تک فوٹوگرافر نہ آ جائے۔'بالاچند راجو اپنے خاندان کے تیسرے نسل کے فوٹوگرافر ہیں اور چنائی میں واقع ستھیام سٹوڈیو کے لیے کام کرتے ہیں۔'لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جس کے ہاتھ میں فون آ جائے وہ تصویر لے سکتا ہے۔'ڈیجیٹل دور میں اب فوٹو سٹوڈیو کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ تقریباً معدوم ہونے کے قریب ہیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنی دکانیں چلانے میں دشواری کا سامنا کر رہیں ہیں، ایک تحقیقی منصوبے کے تحت ان فوٹو سٹوڈیوز کی تاریخ زندہ رکھنے کے لیے ان کی پرانی تصاویر کو کمپیوٹر پر منتقل کرنے کا کام بھی جاری ہے۔برٹش لائبریری کے تعاون سے جاری اس منصوبے کے تحت جنوبی انڈین ریاست تمل ناڈو کے 100 سے زائد فوٹو سٹوڈیوز کا دورہ کیا گیا اور ان کے پاس موجود 10000 پرانی تصاویر کو ڈیجیٹائز کیا گیا۔

سٹوڈیو چلانے والے آنندھ راجو نے اس دکان کو اپنے والد کے بعد سنبھالنا شروع کیا تھا۔ انھوں نے بتایا: 'اس کاروبار میں اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب میرے دادا نے یہ کام شروع کیا تھا تو وہ شاہوں کی طرح رہتے تھے۔'آنندھ راجو نے کہا کہ 'مجھے نہیں پتا کہ یہ تحقیقی منصوبہ میرے سٹوڈیو کو کچھ فائدہ دے گا یا نہیں لیکن جب ان محققین نے میرے سٹوڈیو میں چند گھنٹے گزارے تو میں نے ان کو پرانی تصویریں دیکھتے ہوئے خوشی سے سرشار دیکھا تو مجھے لگا کہ انھوں نے ان تصاویر کو ایک اور موقع دیا ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}