انڈیا: کیا بچوں کے خلاف جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں؟

انڈیا: کیا بچوں کے خلاف جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں؟

July 11, 2018 - 15:34
Posted in:

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی واقعے کو رپورٹ نہ کرنا یا اسے درج نہ کرنا بھی جرم ہے جس میں جرمانہ اور قید دونوں شامل ہیں۔ممبئی کے مجلس لیگل سینٹر کی آڈری ڈی میلو کہتی ہیں کہ ’اب ڈاکٹر اور پولیس کسی واقعے کو گھریلو واقعہ کہہ کر خارج نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے سے انھیں جیل ہو سکتی ہے۔‘ یہ مرکز جنسی تشدد کے شکار لوگوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ شکایت درج کرنے کو ضروری بنا دینا رپورٹ کیے جانے والے واقعات میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔دسمبر 2012 میں دارالحکومت دلی میں ایک چلتی بس پر ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ نے انڈیا میں ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات پر عالمی توجہ مرکوز کی تھی اور اس طرح کے جرائم کی تحقعقات میں پولیس کے کردار پر بھی توجہ دی گئی تھی۔یہ بھی پڑھیےانڈیا: ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو جلا دیا گیاانڈیا کے ’ریپ گرو‘ کے شاہانہ محلات: تصاویراس کے فوراً بعد حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی وسیع تشریح و توضیح کی تھی۔اس کے اثرات واضح تھے کہ سنہ 2012 کے مقابلے میں سنہ 2013 میں رپورٹ کیے جانے والے واقعات میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

سنہ 2007 میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے ایک سروے کرایا تھا جس میں انڈیا کی 13 ریاستوں سے 17 ہزار سے زیادہ بچوں نے شرکت کی تھی۔سروے میں شرکت کرنے والے بچوں میں نصف سے زیادہ (2۔53 فیصد) بچوں نے کہا کہ انھیں ایک یا ایک سے زیادہ اقسام کے جنسی استحصال کا سامنا رہا ہے۔حق سینٹر آف چائلڈ رائٹس کے ایک وکیل کمار شیلبھ نے کہا کہ اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا میں جنسی استحصال کی بہت کم رپورٹنگ ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ سنہ 2012 کے قانون میں رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کے درمیان کی عمر کے لوگوں کے درمیان رضامندی سے ہونے والا جنسی فعل بھی جرم کے زمرے میں آ گیا ہیں۔یہ بھی پڑھیےانڈیا: ریپ کی متاثرہ خاتون دو سال بعد بھی انصاف کی منتظرٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیاوالدین نے ’بیٹی کا ریپ کرنے والے ملزمان کو پکڑ لیا‘بچوں کے ریپ کی شکایات میں اضافے کے باوجود سزا کی شرح میں اضافہ نہیں دیکھا گیا ہے اور سنہ 2012 سے یہ 2۔28 فیصد ہے۔سنہ 2012 کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے مقدمات کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جانا ہے۔ لیکن اس کی شاذونادر ہی پابندی کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کا قانونی نظام سست روی کا شکار ہے۔جہاں جنسی استحصال کرنے والا رشتہ دار یا گھر کا فرد ہے وہاں جنسی استحصال کے شکار پر شکایت واپس لینے کا شدید دباؤ رہتا ہے۔’گھر کی عزت‘ کی خاطر گھر کے فرد کے خلاف لوگ شکایت کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ڈی میلو کہتی ہیں: ’جہاں شکایت ہوتی ہے وہاں بھی ایک خاموش کوشش رہتی ہے کہ جرم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ نہ ہو۔ نظام شکایت کرنے والے کے خلاف کام کرتا ہے اور اکثر جھوٹا الزام لگانے کی بات ثابت ہوتی ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}