انڈیا پاک تجارت تعلقات کی طرح پیچیدہ

انڈیا پاک تجارت تعلقات کی طرح پیچیدہ

November 14, 2017 - 19:04
Posted in:

نومبر کی دھند والی ایک صبح لاہور میں محمد صدیق اپنے ریڑھی کی ترتیب کو اس امید کے ساتھ درست کر رہے ہیں کہ اس سے زیادہ گاہک متوجہ ہوں گے۔محمد صدیق سبزی فروش ہیں اور وہ واہگہ کے سرحدی گاؤں میں قائم ایک عارضی مارکیٹ میں سبزیاں فروخت کرتے ہیں۔ یہ گاؤں انڈیا سے صرف چار کلو میٹر دور ہے۔ان کا کہنا ہے 'ہمیں ایک باکس کے لیے پاکستانی چودہ سو روپے ادا کرنے پڑتے ہیں اور ہمیں اس سے بمشکل دس کلو ٹماٹر حاصل ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے بچوں کی پرورش کیسے کروں گا اور اس لڑکے کو کہاں سے پیسے دوں گا؟'محمد صدیق افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار اچھا نہیں چل رہا ہے۔انھوں نے مجھے سرحد کے قریب واقع سکیورٹی پوسٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا 'لوگوں نے ٹماٹر خریدنے بند کر دیے ہیں کیونکہ اتنے مہنگے ٹماٹر ان کی قوتِ خرید سے باہر ہیں۔‘’سرحد بہت قریب ہے اس لیے ہمیں ٹماٹر سستے ملنے چاہییں لیکن یہ بہت مہنگے ہیں۔'یہ بھی پڑھیےباجوڑ جہاں 'اربوں کی تجارت' ہوتی تھیایم ایف این پاکستان کے لیے بے معنیپاکستان کی ایران سے تجارت میں اضافے کا امکان

امرتسر چیمبر آف کامرس کے صدر راجدیپ اوپل کے بقول ' یہ واضح طور پر ایک سیاسی فیصلہ ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آفتاب وہرہ کا کہنا ہے ' اگرچہ کشمیر کا تنازع ابھی حل نہیں ہوا ہے اس کے باجود ہم انڈیا کے ساتھ کاروبار کر چکے ہیں۔ ہم یقینی طور پر انڈیا کے ساتھ مزید کاروبار کر سکتے ہیں۔ یہ صرف نیت پر منحصر ہے۔ یا تو نیت ہے ہی نہیں یا پھر کاروبار کرنے کے حق میں نہیں ہے۔'پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشدگی کے باوجود لائن آف کنٹرول پر باقاعدگی سے تجارت ہوتی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}