انڈیا: واٹس ایپ افواہوں نے دو جانیں اور لے لیں

انڈیا: واٹس ایپ افواہوں نے دو جانیں اور لے لیں

June 11, 2018 - 16:38
Posted in:

انڈیا میں راستہ پوچھنے والے دو افراد کو ایک ہجوم نے یہ سمجھ کر مار دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں واٹس ایپ پر بچوں کو اغواہ کرنے کی افواہ پھیلی تھی۔ ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس نے اس واقعہ کے بعد سولہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انڈیا بھر میں بچوں کو اغوا کیے جانے کی افواہیں پھیل رہی ہیں جن کی وجہ سے گذشتہ ایک ماہ میں اب تک سات افراد مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والے پیغامات سے نمٹنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس طرح کے تازہ ترین واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام نیلوتپال داس جو ایک آڈیو انجینیر تھے اور ابیجیت ناتھ ہیں جو ڈیجیٹل آرٹسٹ تھے۔ پولیس کے مطابق ان دونوں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ ایک گاؤں کے پاس راستہ پوچھنے کے لیے رکے تھے۔ ان دونوں پر حملے کی ویڈیو ویک اینڈ پر وائرل ہو گئی تھی جس میں ایک شحض کو لوگوں کی منت سماجت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اتوار کو گواہاٹی میں طالب علموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یہ افواہیں پاکستان کی ویڈیو سے پھیلیں؟ لوگ اس کا ذمہ دار واٹس ایپ پر شیئر ہونے والی ایک ایسی ویڈیو کو ٹھہرا رہے ہیں جس میں بظاہر ایک بچے کو اغوا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بنگلور میں جہاں گذشتہ ماہ دو لوگ ہلاک ہوئے تھے ایک مقامی شخص نے بی بی سی کے ڈین جانسن کو اپنے موبائیل فون پر یہ ویڈیو دکھائی جس میں دو موٹر سائیکل سوار بچوں کے ایک گروپ کے پاس رکتے ہیں، ان میں سے ایک ایک بچے کو اٹھا لیتا ہے اور پھر دونوں وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ لیکن یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے اور نہ ہی یہ انڈیا میں بنی ہے۔ اس کی بغیر ایڈٹ ہوئی کاپی دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پاکستان میں بچوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے بننے والی ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو کا آخری منظر، جس میں ان دو موٹر سائیکل سواروں میں سے ایک شخص ایسا سائن بورڈ دکھاتا ہے، جس سے اس فلم کی حقیقت واضع ہوتی ہے کو ایڈٹ کر کے کاٹ دیا گیا ہے۔ اس ایڈٹ ہوئی وڈیو کے ساتھ واٹس ایپ پر ٹیکسٹ میسج بھی بھیجے جاتے ہیں کہ شہر میں ’اغواکار‘ بچوں کو نشانہ بنانے کی نیت سے آ رہے ہیں۔ شروع میں واٹس ایپ پر آنے والے ان پیغامات کی بنیاد پر کچھ مقامی چینلوں نے خبریں بھی چلا دیں جس سے ان افواہوں کو طاقت ملی۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ مقامی لوگوں نے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو مختلف دکھائی دیتے تھے یا مقامی زبان نہیں بول سکتے تھے۔

حکام کیا کر رہے ہیں؟ آسام میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی ہندی کے دلیپ کمار شرما کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو روکنے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے مختلف سوشل میڈیا سائیٹوں پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ کرناٹک میں پولیس نے سوشل میڈیا کنٹرول روم بنائے ہیں، تمل ناڈو میں، جہاں حالیہ مہینوں میں تشدد کے کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں پولیس نے آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، ملک کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس نے شہریوں کے ساتھ مل کر مارچ کیا اور سپیکروں پر اعلان کیا کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور تلنگانا میں افواہ پھیلانے کے الزام میں گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}