انڈیا میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی می ٹو مہم میں مزید کئی نام

انڈیا میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی می ٹو مہم میں مزید کئی نام

October 09, 2018 - 16:35
Posted in:

بھارتی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات پر کھل کر باتیں کر رہی ہیں۔بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر، وکاس بہل، اتسو چکرورتی کے بعد اس میں آئے دن نئے نام سامنے آ رہے ہیں۔پردۂ سیمیں پر عام طور پر ایک 'سنسکاری' یعنی مہذب و بلند کردار شخص کا کردار نبھانے والے اداکار پر ریپ کا الزام لگایا گيا ہے۔ ان پر ٹی وی شو 'تارا' کی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ونیتا نندا نے الزام لگایا ہے۔فیس بک کی اپنے پوسٹ میں ونیتا نندا نے ان کا نام ظاہر کیے بغیر یہ الزام لگایا ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ 'یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ جس نے میرا ریپ کیا اس کی اس انڈسٹری میں ایک 'سنسکاری اداکار' کی شبیہہ ہے۔'یہ بھی پڑھیے’اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا بھی کہے: می ٹو‘جنسی ہراس پر خاتون صحافیوں کی بے خوف آوازیںانڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک'میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے' کیا یہ کہنا آسان ہے؟ونیتا لکھتی ہیں: میں 'ٹی وی کے نمبر ون شو تارا کی پروڈیوسر تھی۔ وہ سیریل کی اداکارہ کے پیچھے پڑا تھا لیکن اس شخص میں اس کی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ شرابی اور بہت برا انسان تھا۔ لیکن فلم اور ٹی وی کی صنعت کا ایک بڑا سٹار ہونے کے لیے اس کی یہ حرکتیں معاف تھیں۔ اداکارہ نے ہم سے شکایت کی تو ہم نے سوچا کہ اسے نکال دیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمیں اس دن آخری شاٹ لینا تھا۔ ہم اسے نکالنے والے تھے اور اس شوٹ کے بعد اسے یہ بتانے والے تھے۔ لیکن وہ شراب پی کر اپنا ٹیک دینے آیا۔ جیسے ہی کیمرہ رول ہوا اس نے اداکارہ کے ساتھ بد تمیزی کی۔ اداکارہ نے اسے تھپڑ مارا۔ ہم نے فورا اسے شو سے جانے کے لیے کہا اور اس طرح وہ شو سے نکالا گیا۔اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: 'اس نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ ہم اپنے گروپ کے ساتھ پارٹیاں کرتے تھے، لہذا یہ خلاف توقع نہیں تھا۔ پارٹی کی شراب میں کچھ ملایا گيا تھا۔ رات دو بجے میں نے عجیب محسوس کیا اور میں اپنے گھر کے لیے نکل پڑی۔ کسی نے مجھے گھر چھوڑنے کی پیشکش نہیں کی۔ میں تنہا پیدل اپنے گھر کے لیے چل پڑی۔ راستے میں وہ شخص مجھے ملا۔ وہ اپنی کار میں تھا اور مجھے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے گھر چھوڑ دے گا۔ میں نے اس پر اعتماد کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس کے بعد جو ہوا مجھے بہت اچھی طرح یاد نہیں۔''مجھے بس اتنا یاد ہے کہ اس نے میرے منہ میں زبردستی مزید شراب ڈالی۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں بہت درد میں تھی۔ میرا اپنے ہی گھر میں ریپ کیا گیا تھا۔''میں نے اپنے دوستوں کو بتایا تو مجھے اس واقعے کو بھول کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا گیا۔'

اب تک جب بھی خواتین نے اپنی بات کہنے کی جرات کی تو ان سے ہی سوال پوچھے گئے کہ اب تک تم کہاں تھیں؟ ایسی صورت حال میں آپ پولیس کے پاس کیوں نہیں گئیں؟ لیکن اب سوال کے بجائے ان سے معافی مانگی جا رہی ہے۔ معافی وہ بھی مانگ رہے ہیں جن پر خواتین نے بھروسہ کیا اور ان سے امید کی لیکن وہ ان کی امیدوں پر پورے نہیں اتر سکے اور اس وقت ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہے۔ تنمے بھٹ، کنال کامرا، گرسمرن کھمبا، چیتن بھگت سمیت بہت سے افراد نے ہراساں کی جانے والی خواتین سے معافی مانگی ہے اور اس سے ان خواتین کی حوصلہ ا‌فزائی ہوئی ہے۔اب آگے کیا؟بی بی سی نیوز دہلی کی گیتا پانڈے کہتی ہیں کہ 'ایسے معاملات کا سیلاب سا امڈ آیا ہے۔ ابھی یہ غیر واضح ہے کہ کتنے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں۔'بہت سے لوگ اسے انڈیا میڈیا کی می ٹو مہم قرار دے رہے ہیں لکین کیا انڈیا میں جاری می ٹو اس قدر بااثر ہو گا جتنا کہ ہالی وڈ کا می ٹو رہا تھا۔ ہالی وڈ میں کئی لوگوں کے نام سامنے آئے لیکن ان میں سے چند ہی لوگوں پر پابندی لگی۔انھوں نے مزید کہا: 'اہم سوال یہ ہے کہ یہ مہم کہاں تک جاتی ہے۔ جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں انھیں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے یا نہیں۔ ابتدا میں می ٹو کا انڈیا میں کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ ابھی یہ سامنے آنا باقی ہے کہ اس کے اثرات کہاں تک ہوتے ہیں۔''یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ جو اپنی باتیں شیئر کر رہے ہیں انھیں مستقبل میں نقصان تو نہیں ہوگا۔ آواز اٹھانے والی کئی خواتین کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انھیں ہتک عزت کے مقدمے کے نام پر ڈرایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک کئی خواتین کھل کر سامنے نہیں آئی ہیں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}